Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

انسان نے پہلی بار سورج کے گرد سیارچے کا راستہ بدل دیا

یہ پہلا موقع ہے جب انسان نے سورج کے گرد گھومنے والے کسی قدرتی جسم کا راستہ تبدیل کیا ہے۔

ناسا نے 2022 میں ایک سیارچے سے خلائی جہاز ٹکرا کر تاریخ رقم کی تھی اور اب نئی پیمائشوں سے معلوم ہوا ہے کہ اس ٹکراؤ نے ڈیڈیموس اور ڈیمورفوس نامی دو سیارچوں کے پورے نظام کا راستہ ہی بدل دیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے جب انسان نے سورج کے گرد گھومنے والے کسی قدرتی جسم کا راستہ تبدیل کیا ہے۔ ڈارٹ مشن سیاروں کی حفاظت کے لیے شروع کیا گیا تھا۔

اس کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ اگر کوئی سیارچہ زمین سے ٹکرانے والا ہو تو کیا اس کا راستہ بدلا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے ڈیڈیموس اور ڈیمورفوس نامی دو سیارچوں کا انتخاب کیا گیا جو ایک دوسرے کے گرد گھومتے ہیں۔

ناسا نے ڈیمورفوس سے خلائی جہاز ٹکرا دیا تھا۔ سائنسدانوں کو امید تھی کہ اس سے ڈیمورفوس کے بڑے سیارچے کے گرد گھومنے کا دورانیہ 7 منٹ بدل جائے گا لیکن یہ 33 منٹ تک بدل گیا۔

اب نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس ٹکراؤ نے نہ صرف ڈیمورفوس کے بڑے سیارچے کے گرد گھومنے کا دورانیہ بدلا بلکہ دونوں سیارچوں کے سورج کے گرد گھومنے کا راستہ بھی بدل گیا۔

یونیورسٹی آف الینوائے کے ماہر راہل مکاڈیا کا کہنا ہے کہ ڈارٹ مشن نے ثابت کردیا کہ ہم کسی سیارچے کے سورج کے گرد چکر لگانے کا راستہ بھی بدل سکتے ہیں۔

ٹکراؤ سے سیارچے کی رفتار میں انتہائی معمولی فرق آیا اور صرف 0.1 ملی میٹر فی سیکنڈ کی رفتار کم ہوئی لیکن خلا میں یہ معمولی فرق دس سالوں میں ساڑھے تین کلومیٹر کا فاصلہ بناسکتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی سیارچہ زمین سے ٹکرانے والا ہو اور ہمیں کئی سال پہلے اس کا علم ہوجائے تو ہم اس کا راستہ اتنا بدل سکتے ہیں کہ وہ زمین سے محفوظ فاصلے سے گزر جائے۔

یورپی خلائی ایجنسی کا ہیرا خلائی جہاز 2026 کے آخر میں اس نظام تک پہنچے گا اور ڈارٹ کے بنائے گڑھے کا مطالعہ کرے گا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق زمین پر سیارچوں کے ٹکراؤ سے بچاؤ کی صلاحیت میں اہم قدم ہے۔