آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے سب سے بڑے اسپتال رائل پرنس الفریڈ اسپتال میں ایک عام فنگس کے باعث 2 افراد ہلاک جب کہ 4 کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
رائل پرنس الفریڈ اسپتال کے ٹرانسپلانٹ یونٹ میں اکتوبر سے دسمبر 2025 کے دوران 6 مریض ایسپرگیلس نامی فنگس سے متاثر ہوئے۔
یہ بیماری کیا ہے؟
ایسپرگیلس ایک عام فنگس ہے جو مٹی، پودوں، گرد اور نم جگہوں پر پائی جاتی ہے۔ یہ صحت مند افراد کے لیے عام طور پر بے ضرر ہوتی ہے لیکن کمزور مدافعتی نظام والے افراد میں یہ ایسپرگیلوسس نامی خطرناک بیماری کا سبب بن سکتی ہے۔
یہ فنگس ہوا میں موجود ذرات کے ذریعے پھیلتی ہے جو سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں داخل ہوجاتے ہیں۔ یہاں یہ زہریلے مادے خارج کرکے پھیپھڑوں کے بافتوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور جسم کے دوسرے حصوں مثلاً دماغ، گردوں، دل اور جلد تک پھیل سکتی ہیں۔
اس بیماری سے کس کو زیادہ خطرہ ہے؟
کمزور مدافعتی نظام والے افراد کو اس بیماری کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ ان میں کیموتھراپی کروانے والے، اسٹیرائڈز استعمال کرنے والے اور اعضاء یا اسٹیم سیل ٹرانسپلانٹ کے مریض شامل ہیں۔
ٹرانسپلانٹ مریض خاص طور پر زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں کیونکہ ان کا مدافعتی نظام جان بوجھ کر کمزور کیا جاتا ہے تاکہ وہ ٹرانسپلانٹ شدہ عضو کو رد نہ کریں۔
ایک امریکی تحقیق کے مطابق اعضاء کی پیوندکاری کرانے والے صرف 59 فیصد اور اسٹیم سیل ٹرانسپلانٹ کے 25 فیصد مریض ایسپرگیلوسس کے بعد ایک سال تک زندہ رہ پاتے ہیں۔
اسپتال کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ فنگس اسپتال کے قریب تعمیراتی کاموں سے پھیلی جب کہ اسپتال میں تعمیر نو کے دوران مٹی اُکھڑنے سے یہ فنگس ہوا میں پھیل گئی تھی۔
فنگس کا علاج
ایسپرگیلس کا علاج اینٹی فنگل ادویات سے کیا جاتا ہے۔ بروقت تشخیص سے علاج زیادہ مؤثر ہوتا ہے تاہم محققین نے ایسپرگیلس کے ایسے قسمیں بھی دریافت کی ہیں جس پر اینٹی فنگل ادویات بے اثر رہتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عام آبادی میں ایسپرگیلس انفیکشن نایاب ہے۔ اسپتالوں میں ایچ ای پی اے فلٹرز لگے ہوتے ہیں جو ہوا سے خطرناک ذرات کو الگ کر دیتے ہیں تاہم تعمیراتی کام سے یہ فلٹرز بے اثر ہوسکتے ہیں۔




















