امریکا اور اسرائیل ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو محفوظ بنانے کے لیے ممکنہ طور پر خصوصی فوجی دستے بھیجنے کے منصوبے پر غور کر رہے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق جنگ کے کسی بعد کے مرحلے میں ایسے آپریشن پر بات چیت کی گئی ہے تاکہ ایران کے جوہری مواد کو اپنے کنٹرول میں لیا جا سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی اہداف میں یہ شامل ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے دیا جائے۔
ایران کے پاس تقریباً 450 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود ہے، جسے چند ہفتوں میں ہتھیاروں کے درجے (90 فیصد) تک بڑھایا جا سکتا ہے، اسی لیے اسے ایک بڑا خطرہ سمجھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: تل ابیب میں دھماکے، ایران کے نئے حملے یا حیدرِ کرار کا اعلان
امریکی میڈیا کے مطابق اس مواد کو قبضے میں لینے کے لیے ممکنہ طور پر امریکی یا اسرائیلی فوجیوں کو ایران کی سرزمین پر کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے، جہاں انہیں جنگ کے دوران انتہائی محفوظ زیرِ زمین تنصیبات تک پہنچنا ہوگا۔
یہ بھی واضح نہیں کہ یہ آپریشن صرف امریکی، صرف اسرائیلی یا دونوں ممالک کی مشترکہ کارروائی ہوگا۔
پسِ منظر میں ہونے والی بریفنگ کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے جب کانگریس میں پوچھا گیا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو کیسے محفوظ بنایا جائے گا تو انہوں نے کہا کہ کسی کو جا کر اسے حاصل کرنا ہوگا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ ذمہ داری کس کی ہوگی۔
ایک اسرائیلی دفاعی عہدیدار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران میں مخصوص مشنز کے لیے خصوصی آپریشنز یونٹس بھیجنے کے امکان پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق دو بڑے آپشن زیرِ غور ہیں:
یورینیم کو ایران سے مکمل طور پر باہر منتقل کر دیا جائے۔
یا جوہری ماہرین کو موقع پر لا کر اسے کم درجے کا (dilute) بنا دیا جائے۔
ممکنہ مشن میں خصوصی فوجی دستوں کے ساتھ سائنسدان بھی شامل ہو سکتے ہیں، جن میں ممکنہ طور پر انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے ماہرین بھی شامل ہوں گے۔
امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق گزشتہ سال جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد یورینیم کا بڑا حصہ ملبے تلے دب گیا تھا، جس تک خود ایرانی حکام بھی رسائی حاصل نہیں کر سکے۔
بتایا جاتا ہے کہ زیادہ تر ذخیرہ اصفہان جوہری تنصیب کی زیرِ زمین سرنگوں میں ہے جبکہ باقی حصہ فردو جوہری تنصیب اور نطنز جوہری تنصیب میں موجود ہے۔
ادھر ایک اور تجویز کے مطابق ایران کے اسٹریٹجک آئل ٹرمینل خارگ جزیرہ پر قبضے کی بھی بات ہوئی ہے، جہاں سے ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل برآمدات ہوتی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زمینی فوج بھیجنے کا امکان موجود ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب اس کی کوئی بہت مضبوط وجہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا کیا گیا تو ایرانی فورسز اس قدر کمزور ہو چکی ہوں گی کہ وہ زمینی سطح پر مزاحمت نہیں کر سکیں گی۔
امریکی حکام کے مطابق زیرِ غور منصوبوں کا مطلب بڑے پیمانے پر جنگ نہیں بلکہ محدود اور مخصوص خصوصی آپریشنز چھاپے ہو سکتے ہیں۔
ایک عہدیدار نے کہا کہ میڈیا جس طرح بوٹس آن دی گراؤنڈ کو بڑے حملے کے طور پر دیکھتا ہے، حقیقت میں زیرِ بحث آپریشن اس سے کہیں چھوٹے اور محدود ہوں گے۔




















