پاکستان ٹیم کے سیمی فائنل اور فائنل نہ کھیلنے کے باوجود ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا اعزاز پاکستان کے اوپنر صاحبزادہ فرحان کے نام رہا۔
مقامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں دنیا بھر کے کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ٹورنامنٹ میں جارحانہ بیٹنگ، لمبے چھکے اور میچ وننگ بولنگ اسپیلز دیکھنے کو ملے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں کئی کھلاڑیوں نے اپنی کارکردگی سے عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا اور اہم ریکارڈز قائم کیے۔
پاکستان ٹیم کے سیمی فائنل اور فائنل نہ کھیلنے کے باوجود ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا اعزاز پاکستان کے اوپنر صاحبزادہ فرحان کے نام رہا، جنہوں نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 6 میچوں میں 383 رنز اسکور کیے۔
مزید پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی بہترین ٹیم کا اعلان، کوئی پاکستانی کھلاڑی شامل نہیں
ان کی اننگز میں دو سنچریاں بھی شامل تھیں اور وہ پورے ایونٹ میں پاکستان کی بیٹنگ لائن کے لیے اہم ثابت ہوئے۔
اس فہرست میں نیوزی لینڈ کے ٹم سیفرٹ 326 رنز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔نصف سنچریوں کی فہرست میں بھی چند بیٹرز نے مسلسل اچھی کارکردگی دکھائی۔ ٹم سیفرٹ نے چار نصف سنچریاں اسکور کیں اسی طرح برائن بینیٹ اور ایڈن مارکرم نے بھی تین، تین مرتبہ پچاس سے زائد رنز اسکور کیے۔
ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر چھ سنچریاں اسکور ہوئیں جن میں سب سے نمایاں کارکردگی صاحبزادہ فرحان کی رہی جو دو سنچریاں بنانے والے واحد بیٹر تھے۔انفرادی اسکور کی بات کی جائے تو نوجوان بیٹر یوراج سمرا نے نیوزی لینڈ کے خلاف 110 رنز کی شاندار اننگ کھیل کر ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا انفرادی اسکور بنایا۔
اس کے علاوہ جیکب بیتھل نے بھارت کے خلاف 105 رنز جبکہ فن ایلن نے جنوبی افریقا کے خلاف 100 رنز کی جارحانہ اننگ کھیلی۔ صاحبزادہ فرحان نے 18 چھکے لگا کر نمایاں کارکردگی دکھائی۔
بہترین بولنگ کارکردگی ویسٹ انڈیز کے روماریو شیفرڈ کے نام رہی جنہوں نے اسکاٹ لینڈ کے خلاف 3 اوورز میں 20 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔ اس کے علاوہ جنید صدیق نے کینیڈا کے خلاف 5 وکٹیں حاصل کیں جبکہ محمد نبی، ناتھن ایلس اور عظمت اللہ عمرزئی نے بھی چار، چار وکٹوں کی شاندار کارکردگی دکھائی۔


















