Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ماہرین فلکیات کی ٹیم پہلی بار بلیک ہول کی ویڈیو بنانے میں مصروف

سائنس فکشن فلموں کے برعکس بلیک ہول نہ تو کسی اور جہان کا دروازہ ہے اور نہ ہی خلائی ویکیوم کلینر۔

کییمبرج: ماہرین فلکیات کی ایک بین الاقوامی ٹیم پہلی بار بلیک ہول کی ویڈیو بنانے میں مصروف ہے جو ان پراسرار خلائی اجسام کے بارے میں نئی معلومات فراہم کرسکتی ہے۔

سائنس فکشن فلموں کے برعکس بلیک ہول نہ تو کسی اور جہان کا دروازہ ہے اور نہ ہی خلائی ویکیوم کلینر جو اپنے اردگرد کی ہر چیز کو نگل جاتا ہے۔

2019 میں سائنسدانوں نے پہلی بار بلیک ہول کی تصویر جاری کی تھی۔ یہ بلیک ہول میسیر 87 (M87) کہکشاں کے مرکز میں واقع ہے جو زمین سے تقریباً 5 کروڑ نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ یہ تصویر ایونٹ ہورائزن ٹیلی اسکوپ کے ذریعے لی گئی تھی جو آٹھ ریڈیو دوربینوں کا ایک نیٹ ورک ہے۔

ویڈیو کیسے بنے گی؟

اب ماہرین فلکیات اسی بلیک ہول کی ویڈیو بنانے میں مصروف ہیں۔ اس بار تصاویر زیادہ بار لی جائیں گی۔ مارچ سے اپریل تک ہر تین سے چار دن بعد تصاویر لی جائیں گی۔ اس طرح وہ بلیک ہول کی حرکت کو واضح طور پر دیکھ سکیں گے۔

ماہرین کے مطابق M87 بلیک ہول اس لیے منتخب کیا گیا کیونکہ یہ دوسرے بلیک ہولز کے مقابلے میں آہستہ تبدیل ہوتا ہے جب کہ اس کی تبدیلی میں کئی دن سے ایک ہفتہ لگتا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اس کے برعکس ہماری کہکشاں کے مرکز میں موجود بلیک ہول (سجیٹیریس اے) اتنی تیزی سے تبدیل ہوتا ہے کہ اس کی تفصیلی تحقیق مشکل ہے۔

کیا پتا چلے گا؟

بلیک ہول کے اردگرد موجود گرم گیس مسلسل حرکت میں رہتی ہے اور ایک ہنگامہ خیز ڈسک بناتی ہے۔ M87 بلیک ہول میں یہ تبدیلیاں چند دنوں سے ایک ہفتے میں رونما ہوتی ہیں۔ پہلے سال میں صرف ایک تصویر لینے سے اس کی متحرک کیفیت نہیں دیکھی جاسکتی تھی۔

ماہرین فلکیات سیرا مارکوف کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو سے بلیک ہول کے بارے میں بہت سے سوالات کے جواب مل سکتے ہیں۔ بلیک ہول کے اردگرد موجود مادہ روشنی کی رفتار سے سفر کرتا ہے، ایسی حالت جو زمین کی لیبارٹریوں میں پیدا نہیں کی جاسکتی۔

سائنسدان جاننا چاہتے ہیں کہ بلیک ہول کس سمت گھومتا ہے؟ یہ اردگرد کے مادے کو کیسے کھاتا ہے؟ کچھ مادہ بلیک ہول میں کیوں گرتا ہے جب کہ کچھ پلازما کی ندیوں کی شکل میں باہر کیوں نکل جاتا ہے؟

بلیک ہول کی اہمیت

بلیک ہول کا اثر صرف اس کے اردگرد تک محدود نہیں ہوتا۔ M87 سے نکلنے والی پلازما کی نہریں پوری کہکشاں میں پھیل کر وہاں موجود گیس کو گرم کر دیتی ہیں جس سے نئے ستارے نہیں بن پاتے۔ اس طرح بلیک ہول اپنی کہکشاں کی نشوونما کو کنٹرول کرتے ہیں۔

مارکوف کا کہنا ہے کہ جب ہم سوچتے ہیں کہ ہم کائنات میں اس وقت اور اس مقام پر کیسے پہنچے تو ہمیں بلیک ہولز کے کردار کو سمجھنا ہوگا۔