کیا آپ جانتے ہیں کہ ہم جس کہکشاں میں رہتے ہیں وہ خلا میں بے یارومددگار نہیں تیر رہی؟ سائنسدانوں نے پتا لگایا ہے کہ ملکی وے نامی ہماری یہ کہکشاں ایک عجیب و غریب چیز میں گھری ہوئی ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق ملکی وے تاریک مادے کی ایک موٹی تہہ میں اس طرح گھری ہے جیسے پین کیک میں بلیو بیری لگی ہو۔ یہ تاریک مادہ وہ چیز ہے جسے ہم دیکھ نہیں سکتے لیکن اس کا وزن اور کشش ثقل بہت زیادہ ہے۔
نیدرلینڈز کی یونیورسٹی آف گروننگن کے ماہرین نے 31 کہکشاؤں کی حرکت کا بغور جائزہ لیا۔ ان کہکشاؤں کا انتخاب اس لیے کیا گیا کہ یہ اپنے اردگرد سے الگ تھلگ ہیں اور ان کی حرکت سے کائنات کے پھیلاؤ کا اندازہ لگانا آسان ہوتا ہے۔
تین عجیب باتیں جو آخرکار سمجھ آگئیں
ماہرین فلکیات کافی عرصے سے تین چیزوں پر حیران تھے۔ پہلی ہماری کہکشاں اور اس کی ساتھی کہکشائیں ایک عجیب چپٹے جھرمٹ میں ہیں جسے لوکل شیٹ کہتے ہیں۔
دوسری اس جھرمٹ کے بالکل قریب خلا کا ایک ایسا خطہ ہے جہاں کوئی کہکشاں نہیں۔ اسے لوکل وائڈ کا نام دیا گیا ہے۔
تیسری ہمارے محلے میں کائنات بہت منظم طریقے سے پھیل رہی ہے جب کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ملکی وے اور اینڈرومیڈا کہکشاؤں کا وزن اتنا زیادہ ہے کہ انہیں اس پھیلاؤ میں بگاڑ پیدا کردینا چاہیے تھا۔
پہیلی کا حل کیا نکلا؟
محققین نے کمپیوٹر میں وہی حالات پیدا کیے جو ابتدائی کائنات میں تھے۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ آج کی صورتحال سے میل صرف اس صورت میں کھاتا ہے جب ہمارے اردگرد کا مادہ ایک چادر نما ڈھانچے میں ترتیب دیا گیا ہو۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایک طرح سے تاریک مادے کی بنی ہوئی پلیٹ میں رہ رہے ہیں جس کے اوپر اور نیچے خالی جگہ ہے۔ یہ چادر ہی ہے جو قریبی خلا سے مادے کو کھینچ کر لوکل وائڈ بناتی ہے اور کائنات کے پھیلاؤ کو منظم رکھتی ہے۔
سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس نئی تھیوری کے لیے کسی نئی اور عجیب سائنس کی ضرورت نہیں۔ یہ پہلے سے موجود نظریات سے پوری طرح میل کھاتی ہے۔ سائنسدان اب یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخر یہ تاریک مادے کی چادر بنی کیسے۔




















