یونیسف نے متنبہ کیا ہے کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی مشرق وسطیٰ کے لاکھوں بچوں کے لیے “تباہ کن” ثابت ہو رہی ہے۔
یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق 12 مارچ 2026 تک امریکا، اسرائیل اور ایران کے شروع ہونے والے اس تنازع نے لاکھوں بچوں کی زندگیوں، صحت اور مستقبل کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
یونیسف کے اعداد و شمار کے مطابق، 28 فروری 2026 سے اب تک خطے میں 1,100 سے زائد بچے شہید یا زخمی ہو چکے ہیں۔ صرف ایران میں تقریباً 200 بچوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے، جبکہ لبنان میں 91 بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اسرائیل اور کویت میں بھی کمسن بچے اس جنگ کی لپیٹ میں آئے ہیں۔
اس تنازع کا سب سے دلخراش واقعہ 28 فروری کو پیش آیا جب جنوبی ایران کے شہر میناب میں شجرہ طیبہ گرلز ایلیمنٹری اسکول پر بمباری کی گئی۔ اس حملے میں 7 سے 12 سال کی 168 بچیاں اس وقت جاں بحق ہوئیں جب وہ اپنی کلاسوں میں موجود تھیں۔
مزید پڑھیں: امریکا، ایران جنگ کے باعث تیل دوبارہ مہنگا، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں منفی رجحان
یونیسف نے اس واقعے کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔
جنگ کی وجہ سے تعلیمی اور طبی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اب تک ایران میں کم از کم 20 اسکول اور 10 اسپتال تباہ یا جزوی طور پر متاثر ہو چکے ہیں، جس سے لاکھوں بچوں کی تعلیم اور علاج تک رسائی ختم ہو گئی ہے۔ لاکھوں بچے اسکول جانے سے قاصر ہیں اور لاکھوں خاندان اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر پناہ گزین کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
یونیسف نے عالمی برادری اور متحارب فریقین سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر دشمنی ختم کریں اور زیادہ سے زیادہ ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں۔
ایجنسی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اسکولوں اور اسپتالوں کو تحفظ حاصل ہے اور انہیں کسی بھی صورت میں نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ یونیسف متاثرہ خاندانوں تک امداد پہنچانے کے لیے اپنے آپریشنز کو وسیع کر رہا ہے تاکہ بچوں کو خوراک اور طبی امداد فراہم کی جا سکے۔

















