پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافے کے بعد ملک میں مہنگائی کی شرح بڑھ گئی ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 1.89 فیصد اضافہ ہوا جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی بڑھنے کی رفتار 6.44 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 51 اشیائے ضروریہ میں سے 14 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 9 میں کمی جبکہ 28 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
ہفتہ وار بنیادوں پر پٹرول کی قیمت میں 20.60 فیصد جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 19.54 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح ایل پی جی کی قیمت میں 12.13 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ہفتے پیاز کی قیمت میں 9.63 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جبکہ گندم کے آٹے کی قیمت میں 1.28 فیصد، چکن کی قیمت میں 0.66 فیصد جبکہ دال ماش کی قیمت میں 0.55 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ کیلے، لکڑی، دال چنا اور تازہ دودھ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خزانہ کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا عندیہ
دوسری جانب کچھ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھنے میں آئی۔ ٹماٹر کی قیمت میں 3.66 فیصد جبکہ آلو کی قیمت میں 2.86 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ لہسن، چاول، دال مسور اور سرسوں کے تیل کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی۔
سالانہ بنیادوں پر جائزہ لیا جائے تو ڈیزل کی قیمت میں 29.94 فیصد، گیس چارجز میں 29.85 فیصد اور ایل پی جی کی قیمت میں 29.21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح آٹے کی قیمت میں 27.75 فیصد اور پٹرول کی قیمت میں 25.75 فیصد اضافہ ہوا۔
مزید برآں مرچ پاؤڈر، بیف، پاوڈر دودھ اور مٹن کی قیمتوں میں بھی سالانہ بنیادوں پر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تاہم بعض اشیاء کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر کمی بھی دیکھی گئی۔ آلو کی قیمت میں سب سے زیادہ 51.92 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ چکن 25.92 فیصد، انڈے 23.76 فیصد اور ٹماٹر 23.02 فیصد سستے ہوئے۔ دال چنا، لہسن، نمک پاؤڈر اور چینی کی قیمتوں میں بھی سالانہ بنیادوں پر نمایاں کمی سامنے آئی۔



















