امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت کو بڑی حد تک تباہ کر دیا ہے اور ایرانی عسکری ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ جنگ میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور آج ایران پر مزید سخت حملے کیے جائیں گے۔
واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق ایران کے نئے سپریم لیڈر بھی زخمی ہو چکے ہیں جبکہ ایرانی قیادت نے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے بنکرز اور شہری علاقوں کا رخ کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے دفاعی اداروں اور فوجی صنعت کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں اور جلد ایرانی دفاعی کمپنیوں کو بھی تباہ کر دیا جائے گا۔
امریکی وزیر جنگ کا کہنا تھا کہ جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔ ان کے مطابق امریکا اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر ممکنہ عالمی توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے بھی اقدامات کر رہا ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو اس حوالے سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ امریکا اس اہم بحری گزرگاہ کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہے اور وہاں سے تیل کی ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی فوجی جنرل ڈین کین نے بتایا کہ عراق میں گرنے والا امریکی طیارہ دشمن کے حملے کا نشانہ نہیں بنا۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو آپریشن جاری ہے اور مزید تفصیلات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔
جنرل ڈین کین نے واقعے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت بھی کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ کارروائیوں کے بعد ایران کی جنگی صلاحیت میں مسلسل کمی آ رہی ہے اور ایران کی جانب سے حملوں کی تعداد بھی کم ہو گئی ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت بھی امریکی افواج کی نگرانی میں ہے۔

















