امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کیلئے دوبارہ کھولنے کے معاملے پر بعض ممالک کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ ممالک اس سلسلے میں تعاون کیلئے زیادہ پرجوش نہیں ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بعض ممالک اس معاملے میں بھرپور دلچسپی دکھا رہے ہیں، تاہم کچھ ایسے بھی ہیں جن کا رویہ سرد مہری پر مبنی ہے، حالانکہ امریکا نے ماضی میں کئی ممالک کی بیرونی خطرات سے حفاظت کی ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ مختلف ممالک کے تعاون کا جوش و جذبہ ان کیلئے اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری راستے کو محفوظ بنانے اور اسے کھلوانے کیلئے کردار ادا کرے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ڈرونز، میزائلوں اور بارودی سرنگوں کے ذریعے اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تیل بردار جہازوں کیلئے مؤثر طور پر بند کر دیا ہے۔
اس آبی راستے سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔
دوسری جانب امریکا کے کئی اتحادی ممالک نے پیر کو واضح کیا کہ فی الحال ان کا آبنائے ہرمز کو کھلوانے کیلئے فوری طور پر بحری جہاز بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔



















