واشنگٹن: امریکی قومی انسداد دہشت گردی مرکز کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے خلاف احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی قومی انسداد دہشت گردی کا مرکز صدر اور قومی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کو دہشت گردی کے خطرات سے متعلق مشاورت فراہم کرتا ہے۔
جو کینٹ نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا ’’وہ ضمیر کی آواز پر ایران کے خلاف جاری جنگ کی حمایت نہیں کرسکتے‘‘۔
After much reflection, I have decided to resign from my position as Director of the National Counterterrorism Center, effective today.
I cannot in good conscience support the ongoing war in Iran. Iran posed no imminent threat to our nation, and it is clear that we started this… pic.twitter.com/prtu86DpEr
— Joe Kent (@joekent16jan19) March 17, 2026
ان کا کہنا تھا ’’ایران نے ہمارے ملک کے لیے کوئی فوری خطرہ پیدا نہیں کیا تھا اور یہ واضح ہے کہ ہم نے یہ جنگ اسرائیل اور اس کی طاقتور امریکی لابی کے دباؤ میں آکر شروع کی‘‘۔
انہوں نے صدر ٹرمپ کے ان وعدوں کی طرف اشارہ کیا جو انہوں نے بیرون ملک امریکی مصروفیات ختم کرنے کے حوالے سے کیے تھے۔
کینٹ نے لکھا ’’آپ سمجھتے تھے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگیں ایک جال ہیں جو امریکا کو ہمارے محب وطنوں کی قیمتی جانوں سے محروم کرتی ہیں اور ہماری قوم کی دولت اور خوشحالی کو ختم کرتی ہیں‘‘۔
خیال رہے کہ یہ استعفیٰ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ٹرمپ انتظامیہ میں سب سے اعلیٰ سطحی استعفیٰ ہے جب کہ جو کینٹ کی جانب سے ’’فوری خطرہ‘‘ کی اصطلاح کا استعمال بھی اہمیت رکھتا ہے۔


















