ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے عید کے موقع پر امتِ مسلمہ کو مبارکباد دیتے ہوئے اہم خطاب میں اتحاد، مزاحمت اور برادر اسلامی ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات پر زور دیا۔
اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ایران نے روزے اور جہاد دونوں کو ساتھ ساتھ جاری رکھا، اور اللہ کے فضل سے دشمن کمزور پڑ چکا ہے۔
انہوں نے ایرانی صدر اور دیگر حکام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے قوم کے اتحاد کو کامیابی کی اصل طاقت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں جنگ کے دوران قوم کو متحد رہنے کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ یہی اتحاد دشمن کو جھکنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
سپریم لیڈر نے پڑوسی ممالک کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے لیے ہمسایہ ممالک خصوصی اہمیت رکھتے ہیں، اور پاکستان کو خاص طور پر قریبی اور اہم شراکت دار قرار دیا۔
انہوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔
خطاب میں انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کو آپس میں اتحاد اور مضبوط تعلقات قائم رکھنے چاہئیں، کیونکہ دشمن قوتیں خطے میں اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد علی خامنہ ای کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی پاکستان کو بے حد اہمیت دیتے تھے اور پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی پر انہیں گہرا دکھ ہوا تھا۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران خطے میں امن، اتحاد اور برادرانہ تعلقات کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔



















