ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے اسرائیل کے ایک ایف-16 جنگی طیارے کو نشانہ بنا دیا۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ کارروائی علی الصبح کی گئی جس میں جدید میزائل سسٹم استعمال ہوا۔
ایرانی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حالیہ جھڑپوں کے دوران اب تک 200 سے زائد دشمن فضائی اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جن میں ڈرونز، کروز میزائل اور لڑاکا طیارے شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملک کا دفاعی نظام مکمل طور پر متحرک ہے اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس کا ایک طیارہ ایرانی فضائی حدود میں کارروائی کے دوران خطرے میں آیا تھا تاہم ان کے مطابق پائلٹ نے بروقت ردعمل دیتے ہوئے صورتحال کو سنبھال لیا اور طیارہ محفوظ رہا، جبکہ مشن بھی مکمل کر لیا گیا۔
ادھر حالیہ پیش رفت میں امریکا کی جانب سے ایران کے اہم جوہری مرکز نطنز کو نشانہ بنانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں تاہم ایرانی حکام نے کسی بڑے نقصان یا تابکاری کے اخراج کی تردید کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں قرار دیا ہے۔
مزید برآں ایران نے دور دراز واقع جزیرے ڈیاگو گارشیا پر موجود امریکی و برطانوی مشترکہ فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائل حملوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
یہ اڈہ ایران کے جنوبی ساحلی علاقے پاسبندر سے تقریباً 3800 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جس کے باعث اس دعوے نے دفاعی ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔


















