Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بحرین، 9 مارچ حملہ ایرانی ڈرون کے بجائے امریکی میزائل تھا، رائٹرز کا دعویٰ

یو ایس سینٹرل کمانڈ اور بحرینی حکام نے اس واقعے کا ذمہ دار ایرانی ڈرون حملے کو قرار دیا تھا

خلیجی ملک بحرین میں ہونے والے 9 مارچ کو ہولناک دھماکے سے متعلق نئی تحقیق نے تہلکہ مچا دیا ہے۔

معروف خبر رساں ادارے رائٹرز کی تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دھماکے میں استعمال ہونے والا پیٹریاٹ میزائل سسٹم امریکی کنٹرول میں تھا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی جانب سے جائزہ لی گئی تحقیق کے مطابق یہ میزائل ایک امریکی آپریٹڈ دفاعی نظام سے فائر کیا گیا، جس کے نتیجے میں رہائشی علاقے میں زور دار دھماکہ ہوا اور درجنوں شہری زخمی ہو گئے، جن میں بچے بھی شامل تھے۔

ابتدائی طور پر یو ایس سینٹرل کمانڈ اور بحرینی حکام نے اس واقعے کا ذمہ دار ایرانی ڈرون حملے کو قرار دیا تھا، تاہم اب پہلی بار بحرین نے تسلیم کیا ہے کہ اس واقعے میں پیٹریاٹ میزائل استعمال ہوا، جس نے مبینہ طور پر فضا میں ڈرون کو تباہ کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ میزائل نے انسانی جانیں بچائیں، لیکن زمینی حقائق کچھ اور کہانی سنا رہے ہیں۔ دھماکے کی شدت سے گھروں کو شدید نقصان پہنچا اور شہری زخمی ہوئے، جس سے جدید دفاعی نظام کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مہنگے اور طاقتور امریکی ہتھیاروں کا سستے ڈرونز کے خلاف استعمال نہ صرف غیر مؤثر ثابت ہو رہا ہے بلکہ شہری آبادی کے لیے خطرناک بھی بن رہا ہے۔

واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دفاع کے نام پر کیے جانے والے اقدامات خود تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔

دوسری جانب پینٹاگون اور امریکی حکام نے اس معاملے پر واضح جواب دینے سے گریز کیا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے روایتی مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ امریکا کبھی شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا۔

متعلقہ خبریں