آپ کے موبائل فون میں انسٹال ایپس ہی اکثر سست روی کی سب سے بڑی وجہ ہوتی ہیں۔ ہر ایپ کو چلانے کے لیے فون کی ریم اور پروسیسر کا حصہ استعمال ہوتا ہے۔
اگر آپ کے فون کی ریم 8 جی بی سے کم ہے اور آپ بھاری ایپس استعمال کررہے ہیں تو پھر مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
ٹک ٹاک

یہ ایپ ویڈیوز کو فوری چلانے کے لیے بہت زیادہ عارضی جگہ (کیشے) استعمال کرتی ہے۔ زیادہ معیار پر ویڈیوز دیکھنے سے پروسیسر پر مزید بوجھ پڑتا ہے۔ اگر آپ کا فون پرانا ہے تو ٹک ٹاک لائٹ ورژن استعمال کرسکتے ہیں جو کم وسائل میں چلتا ہے۔
گوگل فوٹوز

یہ ایپ صرف مقامی تصاویر دیکھنے کے لیے نہیں بلکہ زیادہ تر کلاؤڈ پر محفوظ کرنے کے لیے ہے۔ جب یہ پس منظر میں تصاویر کو کلاؤڈ پر محفوظ کرتی ہے تو فون کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔ اگر رفتار بہتر کرنی ہے تو کلاؤڈ پر محفوظ کرنے کا فیچر بند کردیں۔
اسپوٹیفائی

یہ ایپ گانے بغیر رکاوٹ چلانے کے لیے پہلے سے کچھ حصہ محفوظ کرلیتی ہے۔ اگر فون میں ذخیرہ کرنے کی جگہ کم ہو تو یہ سارا نظام سست کرسکتا ہے۔ زیادہ گانے محفوظ کرنے سے بھی جگہ کم ہوتی ہے اور فون کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔
گوگل میپس

یہ ایپ آپ کی جگہ کا پتہ مسلسل رکھنے کے لیے فون کی جی پی ایس کا استعمال کرتی ہے۔ یہ پس منظر میں بھی چل سکتی ہے جس سے بیٹری اور ڈیٹا دونوں زیادہ خرچ ہوتے ہیں۔ جب ضرورت ہو تبھی استعمال کریں۔
انسٹاگرام

یہ ایپ ویڈیوز اور تصاویر پہلے سے لوڈ کرلیتی ہے تاکہ اسکرول کرتے وقت رکاوٹ نہ ہو۔ اس سے ذخیرہ کرنے کی جگہ بھرسکتی ہے۔ نوٹیفکیشنز کی بہتات بھی بیٹری اور پروسیسر پر اثر ڈالتی ہے۔
آسان حل یہ ہے کہ فون کی بیٹری کی سیٹنگ میں جائیں اور دیکھیں کون سی ایپس زیادہ وسائل استعمال کررہی ہیں۔ جہاں ضروری ہو وہاں پس منظر میں چلنے کی اجازت بند کردیں یا بھاری ایپس کی جگہ ان کے ہلکے ورژن استعمال کریں۔




















