جدید ترین سپر کمپیوٹرز کی مدد سے ماہرین فلکیات نے آخر کار یہ جان لیا ہے کہ بڑے ستاروں (ریڈ جائنٹس) کی سطح پر کیمیائی ساخت کیوں بدل جاتی ہے۔
کئی دہائیوں سے سائنسدان یہ سمجھنے کی کوشش کررہے تھے کہ سرخ دیو ستاروں کی اندرونی گہرائیوں میں ہونے والے جوہری عمل ان کی سطح پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں۔
ان ستاروں کے مرکز میں ہونے والے تعاملات سے اندرونی ساخت بدلتی ہے لیکن ایک مستحکم تہہ اسے سطح والے حصے سے الگ رکھتی ہے۔ یہ واضح نہیں تھا کہ عناصر اس رکاوٹ کو کیسے عبور کرتے ہیں۔
وکٹوریہ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف مینیسوٹا کے محققین نے تھری ڈی کمپیوٹر تختیوں (سیمی لیشنز) سے یہ دریافت کیا کہ اس راز کی کنجی ستاروں کا اپنے محور پر گھومنا ہے۔
گھومنا کیوں ضروری ہے؟
محقق سائمن بلوئن کے مطابق ستارے کا گھومنا اس رکاوٹ کو عبور کرنے کی صلاحیت کو ڈرامائی طور پر بڑھا دیتا ہے۔
سائمن بلوئن کہتے ہیں کہ ان کی تختیوں سے پتا چلا کہ گھومتے ستاروں میں عناصر کی ملاوٹ کی شرح غیر گھومتے ستاروں کے مقابلے میں سو گنا سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ ستارہ جتنی تیزی سے گھومے گا ملاوٹ اتنی ہی زیادہ ہوگی۔
یہی وہ طریقہ کار ہے جو سطح پر کاربن 12 اور کاربن 13 کے تناسب میں تبدیلیوں کی وضاحت کرتا ہے جو ماہرین 1970 کی دہائی سے دیکھ رہے تھے۔
سپر کمپیوٹر کا کردار
اس تحقیق کے لیے استعمال کیے گئے کمپیوٹر تختیے انتہائی پیچیدہ تھے۔ یہ کام کینیڈا کے جدید ترین سپر کمپیوٹر ٹریلیم کی بدولت ممکن ہوا۔
ماہرین کے مطابق اب تک ستاروں کے اندرونی بہاؤ اور موجوں کے اس طرح کے تفصیلی تھری ڈی تختیے کبھی نہیں چلائے گئے تھے۔
سورج کا مستقبل
چونکہ ہمارا سورج بھی ایک دن سرخ دیو ستارہ بنے گا، اس لیے یہ دریافت سورج کے مستقبل کی کیفیات کو سمجھنے میں بھی مدد دے گی۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق میں استعمال کیے گئے طریقے صرف ستاروں تک محدود نہیں بلکہ سمندری لہروں، فضا کے نمونوں اور خون کے بہاؤ جیسے دیگر پیچیدہ نظاموں کو سمجھنے میں بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔




















