گزشتہ ہفتے پولینڈ کے شہر ٹارنوو کے مالوپولسکا روڈ ٹریفک سینٹرکی جانب سے اعلان کیا گیا ایک مقامی شخص نے تھیوری ڈرائیونگ ٹیسٹ 139 کوششوں کے بعد پاس کر لیا ہے جبکہ وہ 2017 سے اس ٹیسٹ کو دے رہے تھے اور اب تک 2100 امریکی ڈالر امتحان فیس کی مد میں خرچ کر چکے تھے۔
پولینڈ اور دوسرے یورپی ممالک میں ڈرائیور بننے کے خواہشمند افراد کے لیے ڈرائیونگ کا پریکٹیکل امتحان دینے سے قبل ایک کمپیوٹر بیسڈ تھیوری ٹیسٹ پاس کرنا لازمی ہے۔ اگر کوئی شخص پہلے تھیوری ٹیسٹ پاس نہیں کرتا تو وہ ڈرائیونگ ٹیسٹ دینے کا حق بھی نہیں رکھتا۔ عام طور پر لوگوں کو ٹیسٹ پاس کرنے کے لیے ایک سے تین کوششیں درکار ہوتی ہیں، تاہم بعض انتہائی کیسز میں یہ سالوں اور درجنوں کوششوں میں بھی بدل سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گاڑیوں کی تعداد کم کرنے کیلئے مالٹا کا منفرد پروگرام متعارف
ٹارنوو ٹیسٹنگ سینٹر کے ڈائریکٹر پاؤل گورگُل نے کہا اس شخص نے مسلسل ناکامی کے باوجود ہمت نہیں ہاری جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈرائیونگ لائسنس اس کے لیے بہت اہم ہے تاہم اب وہ پریکٹیکل امتحان کا انتظار کر رہا ہے۔

گورگُل نے وضاحت کی کہ جب اس نامعلوم شخص نے کئی بار امتحان میں ناکامی کے بعد گفتگو کی گئی تو اس نے بتایا کہ وہ اس ٹیسٹ کی تیاری کے لیے ڈیمو ورژن استعمال کر رہا تھا، جس میں تمام سوالات شامل نہیں تھے تاہم اس نے پورا ورژن کا استعمال جس میں تمام سوالات شامل تھے کیا تو مثبت نتیجے کے قریب آنا شروع ہو گیا اور کم سے کم پوائنٹس سے ناکام ہونے لگا، اور آخرکار پاس کر لیا۔
تاہم اس امیدوار کے لیے بری خبر یہ ہے کہ اسے ابھی پریکٹیکل ڈرائیونگ ٹیسٹ بھی پاس کرنا ہے۔ اگر وہ اس میں ناکام ہوتا ہے تو اسے دوبارہ تھیوری ٹیسٹ دینا پڑے گا تاکہ وہ دوبارہ ڈرائیور کا لائسنس حاصل کرنے کی کوشش کر سکے۔




















