Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بھارت میں پہلی مرتبہ والدین کی خواہش پر بیٹے کو موت دے دی گئی، مگر کیوں؟ جانیے

والدین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کے علاج پر تمام جمع پونجی خرچ کر چکے تھے

ہریش رانا جن کی لائف سپورٹ سپریم کورٹ کی اجازت کے بعد ہٹا دی گئی تھی چل بسے۔ یہ بھارت میں عدالت کی منظوری سے ہونے والی موت کی پہلی مثال ہے جس میں والدین کی رضامندی شامل تھی۔

31 سالہ ہریش رانا منگل کے روز آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں انتقال کر گئے، جہاں انہیں لائف سپورٹ ہٹائے جانے کے بعد پیلی ایٹو کیئر فراہم کی جا رہی تھی۔

ہریش رانا 2013 میں ایک حادثے کے بعد کومے میں چلے گئے تھے جب وہ چوتھی منزل سے گر کر شدید زخمی ہوئے۔ اس وقت وہ انجینئرنگ کے طالب علم تھے۔

حادثے سے قبل انہوں نے اپنی ممکنہ طبی صورتحال کے حوالے سے کوئی “لیونگ وِل” (Living Will) تیار نہیں کی تھی۔

واضح رہے کہ “لیونگ وِل” ایک قانونی دستاویز ہوتی ہے جس کے ذریعے کوئی بھی بالغ شخص یہ طے کر سکتا ہے کہ لاعلاج بیماری یا بے ہوشی کی صورت میں اسے کس نوعیت کا طبی علاج دیا جائے۔

بھارت میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے 2018 میں پیسو یوتھینیشیا کو قانونی قرار دیا تھا اور شہریوں کو لیونگ وِل بنانے کی اجازت دی تھی، تاہم ایکٹو یوتھینیشیا یعنی جان بوجھ کر زندگی کا خاتمہ کرنا اب بھی غیر قانونی ہے۔

چونکہ ہریش رانا کومے میں تھے اور اپنی رضامندی دینے کے قابل نہیں تھے اس لیے ان کے والدین نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ میڈیا سے گفتگو میں والدین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کے علاج پر تمام جمع پونجی خرچ کر چکے تھے اور انہیں اس بات کی بھی فکر تھی کہ ان کے بعد ہریش کا کیا ہوگا۔

متعلقہ خبریں