Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ڈبلیو ٹی او وزارتی کانفرنس، پاکستان کے بلال اظہر کیانی کو اہم ذمہ داریاں دے دی گئیں

یہ اجلاس زرعی تجارت کے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرے گا

ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی چودھویں وزارتی کانفرنس کا اہم اجلاس وسطی افریقی ملک کیمرون کے دارالحکومت یاؤندے میں شروع ہو گیا، جہاں دنیا بھر سے اعلیٰ سطحی وفود شریک ہیں۔

پاکستان کی نمائندگی وزیر مملکت خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی کر رہے ہیں، جو وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔

جنیوا میں ڈبلیو ٹی او کے لیے پاکستان کے مستقل مندوب علی سرفراز بھی وفد کا حصہ ہیں۔

یہ وزارتی اجلاس عالمی تجارتی نظام کے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے، کیونکہ یک طرفہ اقدامات، ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں میں اضافے نے ڈبلیو ٹی او کی افادیت اور بقا کو چیلنج کر دیا ہے۔

کئی ممالک کی جانب سے قومی مفادات کو ترجیح دینے سے کثیرالملکی تجارتی نظام دباؤ کا شکار ہے۔

اہم پیش رفت کے طور پر بلال اظہر کیانی کو ڈبلیو ٹی او کے زراعت سے متعلق خصوصی اجلاس کا “منسٹر فسیلیٹیٹر” منتخب کر لیا گیا ہے۔

یہ اجلاس زرعی تجارت کے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرے گا، جہاں کئی برسوں سے تعطل کا شکار مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔

زرعی شعبے میں اختلافات کی بڑی وجہ مختلف ممالک کی اپنے کسانوں کے حق میں سخت پالیسیاں اور غیر لچکدار رویہ ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر اتفاق رائے ممکن نہیں ہو سکا۔

کانفرنس کے دوران بلال اظہر کیانی مختلف ممالک کی سیاسی و سرکاری قیادت سے اہم ملاقاتیں بھی کریں گے، جبکہ وہ سفیر علی سرفراز کی تیار کردہ سفارشات پر ڈبلیو ٹی او ارکان کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔

پاکستان نے اس موقع پر ڈبلیو ٹی او کے بنیادی اصولوں اور ترقی پذیر ممالک کے لیے مساوی مواقع کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ پاکستانی وفد ایسی اصلاحات کا حامی ہے جو عالمی تجارتی نظام کو مزید مضبوط اور مؤثر بنائیں۔

واضح رہے کہ کانفرنس کے دوران ڈبلیو ٹی او اصلاحات بھی ایجنڈے کا اہم حصہ ہیں، جن پر رکن ممالک کے درمیان تفصیلی غور کیا جا رہا ہے۔