ملک کی نمایاں کاروباری شخصیات نے پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے خلاف جاری منفی پروپیگنڈے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت اور فوری کارروائی کی جائے جو اس اہم تجارتی سہولت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یونائیٹڈ بزنس گروپ کے سرپرستِ اعلیٰ ایس ایم تنویر نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین کامران ارشد کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کا برقرار رہنا انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یہ اسٹیٹس 2024 سے 2027 تک کے لیے حاصل ہوا ہے، جو مختلف اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے، اس لیے اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ جی ایس پی پلس کے ذریعے نہ صرف برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا بلکہ یہ ملکی معیشت کے استحکام میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ایس ایم تنویر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ملک کو اس وقت معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم حکومت اور متعلقہ ادارے صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ برآمدات کو وسعت دینے کے لیے نئے آزاد تجارتی معاہدوں کی بھی ضرورت ہے۔
اس موقع پر کامران ارشد نے بھی جی ایس پی پلس کی افادیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی برآمدات 2013 میں 2 ارب ڈالر سے کم تھیں، جو اب بڑھ کر 9.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، اور اس میں اسٹیٹس کا کلیدی کردار ہے۔
کاروباری رہنماؤں نے حکومت پر زور دیا کہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور قومی مفاد کو ترجیح دی جائے تاکہ پاکستان کو حاصل تجارتی مراعات متاثر نہ ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور ٹیکس دہندگان کے درمیان جاری مشاورت ایک مستحکم اور مضبوط معاشی ماحول کی تشکیل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔


















