امریکا بھر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ’نو کنگز‘ مظاہرے شروع ہوگئے اور ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف امریکا بھر میں ریلیاں نکالی جا رہی ہیں ان مظاہروں کی کال امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے دی تھی۔
یہ مظاہرے آمریت، دولت کے ارتکاز، نہ ختم ہونے والی جنگوں اور محنت کش طبقے کے خلاف جاری اقدامات کے خلاف ہورہے ہیں منتظمین کا کہنا ہے کہ امریکا کی 50 ریاستوں میں 3 ہزار 200 احتجاجی مظاہروں کا انتظام کیا گیا ہے۔

سینیٹر برنی سینڈر نے مینی سوٹا میں نوکنگ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام سے ایران جنگ کے بارے میں جھوٹ بولاجارہا ہے ایران کے خلاف جنگ کو فوری طورپرروکنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے الیکشن میں کہا تھا جنگوں میں پیسہ ضائع نہیں کروں گا انہوں نے جھوٹ بولااورایران جنگ میں پیسہ ضائع کردیا ایران جنگ غیرآئینی ہے ٹرمپ نے کانگریس سے اجازت نہیں لی۔

برنی سینڈر کے مطابق ایران جنگ میں 13 امریکی فوجی ہلاک اور کئی سوزخمی ہوچکے ہیں جبکہ گزشتہ روزایرانی حملے میں 12 امریکی فوجی زخمی ہوئے دوسری جانب امریکی اسرائیلی حملوں میں ایران میں 2 ہزار سے زائد شہری جان سے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے اپنے پاٹنرنیتن یاہوکے ساتھ مل کرایران پرحملہ کیا اور اسکولوں پربمباری کی ایران کے خلاف جنگ عالمی قانون کے بھی خلاف ورزی ہے۔
برنی سینڈرز نے کہا کہ لبنان کی 15 فیصد آبادی اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے بے گھرہوگئی جبکہ اسرائیل میں 20 افرادہلاک اور5 ہزارزخمی ہوئے ہیں مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکارگھروں کوآگ لگارہے ہیں مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکارفلسطینی شہریوں کوقتل کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا ایران جنگ کی وجہ سے ٹریلین ڈالرزکامعاشی نقصان ہواہے امریکی اسرائیلی حملوں میں ایران میں 498 اسکول متاثرہوئے ہیں۔
مظاہرے کے ہزاروں شرکاء نے ’’اینڈوس وار‘‘کے نعرے لگائے جبکہ سینیٹربرنی سینڈرزنے جب نیتن یاہوکانام لیا توشرکانے نفرت کااظہارکیا۔



















