ایران نے امریکا پر ممکنہ زمینی حملے کی تیاری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے خوفناک نتائج بھگتنا ہوں گے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آج اسلام آباد میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس ہوا، جس میں ایران جنگ کو روکنے کے لیے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے عالمی معیشت، سپلائی چین، خوراک کی قلت اور توانائی کی سلامتی پر اثرات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
دوسری جانب جنگ کے دوسرے مہینے میں داخل ہوتے ہی اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تہران میں بیلسٹک میزائل سے متعلق اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ جواب میں ایران نے اسرائیل پر متعدد میزائل داغے، جس کے باعث لاکھوں افراد کو پناہ گاہوں میں منتقل ہونا پڑا۔
اس دوران اسرائیل کے جنوبی صنعتی علاقے میں آگ بھڑک اٹھی، جہاں کیمیکل اور خطرناک فضلہ پراسیسنگ پلانٹس موجود ہیں، تاہم فوری طور پر نقصان کی مکمل نوعیت واضح نہیں ہو سکی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے الزام عائد کیا کہ امریکہ بظاہر مذاکرات کی بات کر رہا ہے مگر پسِ پردہ فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکی فوج نے پیش قدمی کی تو ایران بھرپور جواب دے گا اور کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
یاد رہے کہ یہ جنگ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی، جو اب پورے خطے میں پھیل چکی ہے۔
اسی دوران حوثی تحریک نے بھی اسرائیل پر حملے شروع کر دیے ہیں، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔


















