طبی تعلیم کی کتابوں میں انسانی جسم کے ہر پٹھے، نس اور جوڑ کو اتنی تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے کہ لگتا ہے جسم کے بارے میں جاننے کے لیے کچھ باقی نہیں رہا لیکن حقیقت اس سے بہت مختلف ہے۔
آج جو اناٹومی کا معیاری علم سکھایا جاتا ہے اس کی بنیاد 16 ویں صدی میں اینڈریاس ویسالیئس اور 19 ویں صدی میں ہنری گرے جیسی کتابوں پر ہے لیکن یہ علم کبھی بھی مکمل نہیں تھا۔
پہلے اناٹومی کے ماہرین قبروں سے نکالی گئی لاشوں پر انحصار کرتے تھے جو زیادہ تر غریب اور پسماندہ طبقوں سے تعلق رکھتی تھیں۔
اس وقت نہ تو لاشیں صحت مند ہوتی تھیں اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی تفصیلی معلومات دستیاب ہوتی تھیں۔ اس کے باوجود انہی مشاہدات کو کلاسیکی اناٹومی کی بنیاد بنالیا گیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ انسانی جسم کا جو ’’معیاری‘‘ نمونہ درسی کتابوں میں پیش کیا جاتا ہے، وہ دراصل بہت محدود اور غیر متوازن مشاہدات سے تشکیل پایا۔
بیسویں صدی میں یہ مان لیا گیا کہ اناٹومی کا کام مکمل ہوچکا ہے اور پھر نئی تحقیق رک گئی لیکن اب جدید امیجنگ تکنیک اور نئے تحقیق کے ذریعے پتا چل رہا ہے کہ جسم کا نقشہ کہیں زیادہ پیچیدہ اور متغیر ہے۔
آج ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ انسانی ساخت میں فرق ہونا کوئی استثنا نہیں بلکہ اصول ہے۔ مرد اور عورت میں فرق ہوتا ہے، عمر کے ساتھ جسم بدلتا ہے اور ایک فرد سے دوسرے فرد میں شریانوں، پٹھوں اور یہاں تک کہ دماغ کی ساخت میں بھی نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔
یہ تنوع صرف جراحی کے لیے ہی نہیں بلکہ بیماریوں کی تشخیص، اسکین کی رپورٹس کی تشریح اور چوٹوں کی روک تھام کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔
درسی کتابوں کا ’’معیاری‘‘ جسم دراصل ایک آسان ماڈل ہے، نہ کہ حقیقی زندگی کا عکاس۔ آج بھی جسم کے وہ حصے دریافت ہورہے ہیں جو پہلے نظر انداز کردیے گئے تھے۔ اناٹومی کا نقشہ اب بھی نئے سرے سے لکھا جارہا ہے۔




















