امریکا کی میو کلینک اور وین اسٹیٹ یونیورسٹی کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ وزن کم کرنے والی دوائیوں کے ساتھ مینوپاز ہارمون تھراپی کا استعمال بزرگ خواتین میں وزن کم کرنے کی شرح کو نمایاں طور پر بڑھاسکتا ہے۔
محققین نے 120 خواتین کے طبی ڈیٹا کا جائزہ لیا جن کی عمریں زیادہ تر 50 سال کے قریب تھیں۔ ان میں سے 80 خواتین صرف ٹائرزیپٹائڈ (وزن کم کرنے کی دوا) استعمال کررہی تھیں جب کہ 40 خواتین یہ دوا ہارمون تھراپی کے ساتھ لے رہی تھیں۔
15 ماہ کے علاج کے بعد نتائج سے پتا چلا کہ ہارمون تھراپی بھی استعمال کرنے والی خواتین کا وزن اوسطاً 19.2 فیصد کم ہوا جب کہ صرف دوا استعمال کرنے والی خواتین کا وزن 14 فیصد کم ہوا۔
ہارمون تھراپی والی خواتین میں 30 فیصد یا اس سے زیادہ وزن کم کرنے والی خواتین کی تعداد بھی زیادہ تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مینوپاز کے دوران جسم میں ہارمون کی سطح میں تبدیلی آتی ہے جس سے تھکاوٹ، گرمی کا احساس، نیند میں کمی اور دیگر مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ ہارمون تھراپی ان مسائل کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج ابھی ابتدائی مارحل میں ہیں اور اس کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ وہ اس امتزاج پر کنٹرول شدہ کلینکل ٹرائلز کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
تحقیق کی سرکردہ مصنف ریجینا کاسٹانیڈا کا کہنا ہے کہ لاکھوں خواتین درمیانی عمر میں وزن بڑھنے کے مسئلے سے دوچار ہیں لیکن ابھی تک اس کا قطعی حل نہیں مل سکا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ہارمون تھراپی خواتین کی نیند اور زندگی کے معیار کو بہتر بناکر انہیں خوراک اور ورزش کے منصوبوں پر قائم رہنے میں مدد دے سکتی ہے۔
محققین نے بتایا کہ وہ مستقبل میں ایک بڑا کلینکل ٹرائل کریں گے تاکہ یہ جان سکیں کہ ہارمون تھراپی کے فوائد صرف وزن کم کرنے تک محدود ہیں یا اس کے دیگر صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔




















