ایف بی آر کو مارچ کے لیے مقررہ 1367 ارب روپے کے ٹیکس ہدف کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو مارچ 2026 میں ہدف کی نسبت 200 ارب روپے تک کی کمی کا سامنا ہوسکتاہے۔
ذرائع ایف بی آر کے مطابق گزشتہ سال مارچ 2025 میں 1116 ارب روپے کی وصولی کے مقابلے میں رواں سال ہدف حاصل کرنے کے لیے 21 فیصد اضافے کی ضرورت تھی جو موجودہ معاشی حالات میں مشکل دکھائی دے رہا ہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ حکام کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث درآمدات متاثر ہوئیں، جس سے تقریباً 150 ارب روپے تک کم ٹیکس وصول ہونے کا خدشہ ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق فروری 2026 میں درآمدات پر 378 ارب روپے ٹیکس جمع کیا گیا تھا جبکہ مارچ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور معاشی سرگرمیوں کی سست روی کی وجہ سے اب تک یہ وصولی کم ہو کر 345 ارب روپے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین ایف بی آر کا کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ، تاجروں سے اہم ملاقات
ذرائع کے مطابق جنگی صورتحال کے باعث پراپرٹی لین دین میں بھی تقریباً 50 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مارچ 2026 میں برآمد کنندگان کو 60 ارب روپے سے زیادہ کے ریفنڈز جاری کیے گئے ہیں جبکہ جولائی سے فروری کے دوران ایف بی آر کی مجموعی ٹیکس وصولی 8121 ارب روپے رہی۔ ایف بی آر کو جولائی سے مارچ کے دوران تقریبا 6 سو ارب روپے سے زیادہ شارٹ فال کا خدشہ ہے۔
اس کے علاوہ برآمد کنندگان کو ریفنڈز کی مد میں ادائیگیاں بڑھنے سے بھی محصولات پر دباؤ آیا۔
حکام کے مطابق ایف بی آر نے بڑے ٹیکس دہندگان کے دفاتر کے ساتھ اجلاسوں کا سلسلہ شروع کر دیا تاکہ مارچ کے اختتام تک زیادہ سے زیادہ محصولات اکٹھے کیے جا سکیں۔
آئی ایم ایف نے تاحال ٹیکس ہدف میں مزید کمی کی درخواست کو منظور نہیں کیا ہے۔



















