امریکا اور اسرائیل نے جنگ کے 32 ویں روز ایران پر تاریخ کی سب سے خطرناک بمباری کرتے ہوئے 2 ہزار کلو وزنی بنکر بسٹر بموں کی بارش کردی۔
تفصیلات کے مطابق ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ اپنے پانچویں ہفتے میں داخل ہو گئی ہے، جنگ کے 32 ویں روز امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر 2 ہزار کلو وزنی بنکر بسٹر بم برسائے گئے ہیں۔
اس حوالے سے امریکی اخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایرانی شہر اصفہان میں ایک بڑے اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس میں بنکر بسٹر بم استعمال کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ گہرائی میں موجود اسلحے کے ذخائر کو تباہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دھماکوں کی ویڈیو شیئر کردی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پر دھماکوں کی ویڈیو شیئر کی، جس میں رات کے وقت آگ کے بڑے شعلے اور مسلسل دھماکے دیکھے گئے۔
New media post from Donald J. Trump
(TS: 30 Mar 20:50 ET) pic.twitter.com/GcPU0FVVMu
— Commentary: Trump Truth Social Posts On X (@TrumpTruthOnX) March 31, 2026
ماہرین کے مطابق ایسے حملوں میں بنکر بسٹر بم اس لیے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ پہلے مضبوط تہہ کو توڑا جائے اور پھر اندر موجود اسلحہ خود مزید دھماکوں کا باعث بنے۔
امریکی صدر نے دھماکوں کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اگر جنگ ختم کرنے کے لیے کوئی معاہدہ نہ ہوا اور آبنائے ہرمز بند رہی تو امریکا ایران کے برقی پلانٹس اور تیل کے کنوؤں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی واضح کیا کہ وہ تنازع کے خاتمے کے لیے کوئی وقت طے نہیں کریں گے۔ ادھر اسرائیلی فوج نے تہران میں اسلحہ سازی کے 40 مراکز پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
ایران کے وسطی اسرائیلی علاقوں پر میزائل حملے، 11 افراد زخمی
اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب، بنی براک اور پیتاح تکوا سمیت مختلف علاقوں میں میزائل گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے آج صبح داغے گئے میزائلوں کے نتیجے میں وسطی اسرائیل میں 11 افراد زخمی ہو گئے۔
اسرائیلی میڈیا کا بتانا ہے کہ گُش دان کے علاقے میں 6 اور بنی براک میں 3 افراد زخمی ہوئے جبکہ دیگر متاثرہ علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ایرانی فوج کا اصفہان کے قریب 30 ملین ڈالر مالیت کا ریپر ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
ایرانی فوج کا کہنا ہے فضائی دفاعی نظام نے اصفہان کے قریب ایم کیو نائن ریپر ڈرون مار گرایا ہے۔
🔴 Iran’s Army announced targeting an MQ-9 drone over Isfahan using an advanced air defense system. pic.twitter.com/68drqdNwMJ
— Press TV 🔻 (@PressTV) March 31, 2026
عرب میڈٰیا کے مطابق ایران نے اب تک 146 ڈرون مار گرائے ہیں، ایم کیو نائن ریپر ڈرون نگرانی اور حملوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کی مالیت تقریباً 30 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔
ایران کے خلیجی ممالک پر حملے جاری
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے بعد ایران نے خلیجی ممالک کے نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں، جن کو خلیجی ممالک نے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
عراق اور سعودی عرب میں صورت حال
عراق میں اربیل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب دھماکے کی اطلاعات ملی ہیں، جہاں امریکی قونصلیٹ اور فوجی مشیر موجود ہیں۔
سعودی عرب میں ایرانی ڈرون کا ملبہ کئی گھروں پر گرا ہے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے جبکہ 10 ڈرونز کو سعودی عرب کی فضائی دفاع فورسز نے تباہ کردیا ہے۔
سعودی عرب کے حکام نے بتایا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے 10 ڈرونز اور 8 بیلسٹک میزائلز کو ناکارہ بنایا۔ قطر، کویت اور بحرین نے بھی میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاع دی اور دفاعی کارروائیاں کیں۔
دبئی پورٹ: ایرانی ڈرون حملے سے کویتی آئل ٹینکر میں آتشزدگی
ایران کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملے کےنتیجے میں دبئی پورٹ پر موجود ایک کویتی آئل ٹینکر پر آگ بھڑک اٹھی، ٹینکر میں خام تیل بھرا ہوا تھا۔
قطری خبر رساں ادارے کے مطابق حملے کے بعد اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ آئل ٹینکر پر لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور واقعے میں تیل کا رساؤ اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
کویتی پیٹرولیم کارپوریشن کے مطابق ٹینکر ال سلمی کو ایرانی حملے میں نقصان پہنچا، اور یہ جہاز دو لاکھ بیرل تیل لے کر چین کے شہر چینگ ڈاؤ جا رہا تھا۔ کویتی پیٹرولیم کارپوریشن نے ممکنہ تیل کے رساؤ کے حوالے سے انتباہ بھی جاری کیا تھا۔
دبئی میڈیا آفس کے مطابق ڈرون حملے کے بعد فوری طور پر ریسکیو کارروائی کرتے ہوئے آتشزدگی پر قابو پالیا گیا اور کسی بھی شخص کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔
Authorities confirm that they are responding to an incident caused by debris from a successful interception that fell on residential houses in southern Dubai, resulting in property damage and minor injuries to four Asian nationals.
— Dubai Media Office (@DXBMediaOffice) March 31, 2026
علاوہ ازیں، دبئی کی دضاؤں میں شدید گھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جن کے حوالے سے اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو انٹرسیپٹ کرنے کی وجہ سے پیدا ہورہے ہیں۔
حکام نے عوام کو تحفظ کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ یو اے ای کا دفاعی نظام متحرک ہے اور کامیابی سے ملک کا دفاع کر رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا کہ ملک بھر میں سنے جانے والے دھماکوں کی آوازیں میزائل اور ڈرونز کے خلاف جاری دفاعی کارروائیوں کی وجہ سے ہیں۔
وزارت دفاع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ ملک کے مختلف حصوں میں سنی جانے والی آوازیں میزائل اور یو اے ویز کے خلاف جاری کارروائیوں کا نتیجہ ہیں۔




















