امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی بندش اور بڑھتے عالمی توانائی بحران کے دوران اپنے اتحادی ممالک کو سخت پیغام دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ امریکا اب ہر کسی کی مدد کے لیے تیار نہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے ان ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا جو ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں میں شریک نہیں ہوئے، اور اب ایندھن کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے خاص طور پر برطانیہ اور فرانس کا نام لیتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں جیٹ فیول اور تیل کی کمی کا سامنا ہے تو وہ امریکا سے تیل خریدیں، کیونکہ امریکا کے پاس وافر مقدار موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ ممالک امریکا سے تیل نہیں خریدنا چاہتے تو انہیں خود ہمت دکھانا ہوگی اور آبنائے ہرمز جا کر اپنا تیل خود حاصل کرنا ہوگا۔
آپ کو اب اپنے لیے خود لڑنا سیکھنا ہوگا، امریکا اب آپ کی مدد کے لیے نہیں آئے گا، جیسے آپ ہمارے ساتھ نہیں تھے۔
ٹرمپ نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ فرانس نے اسرائیل کو فوجی سامان لے جانے والے طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی، جس پر انہوں نے شدید ناراضی کا اظہار کیا۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے، جہاں کشیدگی کے باعث تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور توانائی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے اس بیان نے نہ صرف عالمی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے بلکہ اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں بھی دراڑ ڈالنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔


















