ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور اب اس کے اثرات فضائی صنعت پر بھی خطرناک انداز میں ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ جنوبی کوریا کی قومی ایئرلائن کورین ایئر نے اچانک ایمرجنسی مینجمنٹ موڈ نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ایئرلائن کے ترجمان کے مطابق جیٹ فیول کی قیمتوں میں بے قابو اضافے کے باعث کمپنی نے اندرونی اخراجات میں فوری کمی، مالی کنٹرول اور ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ میں اپنی بقا کو یقینی بنایا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع نے تیل کی عالمی منڈی کو شدید متاثر کیا ہے۔ 28 فروری سے اب تک خام تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زائد اضافہ جبکہ جیٹ فیول کی قیمتیں دوگنا ہو چکی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال صرف ایک کمپنی تک محدود نہیں، بلکہ ایشیائی ایئرلائنز “ڈبل شاک” کا شکار ہیں — ایک طرف تیل کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ اور دوسری طرف خطے میں جیٹ فیول کی قلت۔
معاشی ماہر ٹین چی سیانگ کا کہنا ہے کہ کووڈ جیسے بحران میں مختلف ایئرلائنز ایسے ہنگامی اقدامات کر چکی ہیں لیکن موجودہ صورتحال زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے کیونکہ اس بار مسلہ عالمی جنگ اور توانائی بحران سے جڑا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر تیل کی قیمتوں میں یہی اضافہ جاری رہا تو نہ صرف ٹکٹوں کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں بلکہ کئی ایئرلائنز کو پروازیں کم یا بند کرنے کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


















