Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ترک خاتون کا ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ہونے کا دعویٰ

اگرچہ نیچلا کے پاس اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے ٹھوس ثبوت نہیں ہیں

55  سالہ ترک خاتون نے ایک انوکھا دعویٰ کیا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جینیاتی بیٹی ہیں۔

نیچلا اوزمن نامی  55   سالہ خاتون جو ترکی کے شہر انقرہ میں رہائش پذیر ہیں، ان دنوں ایک قانونی جنگ میں مصروف ہیں تاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا جینیاتی والد تسلیم کرا سکے۔

 ان کا دعویٰ ہے کہ وہ 47ویں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ہیں اور اس بات کو ثابت کرنے کے لیے صرف ٹرمپ کے جینیاتی نمونہ کی ضرورت ہے تاکہ ڈی این اے ٹیسٹ کیا جا سکے۔

نیچلا اوزمن نے ترک اخبار ’’ہُریّت‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’میں انہیں کوئی پریشانی نہیں دینا چاہتی، بس سچ جاننا چاہتی ہوں۔ میں صرف یہ جاننا چاہتی ہوں کہ کیا وہ میرے والد ہیں؟ اگر وہ راضی ہوں تو میں ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے یہ ثابت کر سکتی ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اچھے والد ہوں گے اور مجھے رد نہیں کریں گے۔‘‘

نیچلا کا کہنا ہے کہ 2017 میں انہیں اپنے اصلی والد کے بارے میں پتہ چلا جب ان کی والدہ نے انہیں بتایا کہ وہ دراصل گود لی ہوئی بچی ہیں۔ ان کی والدہ نے ایک امریکی خاتون، سوفیا، سے ملاقات کی تھی جو انہیں اپنی بیٹی سونپ کر گئی تھی اور یہ بھی بتایا تھا کہ وہ بچی کسی اور سے نہیں بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ سے ہے۔

اگرچہ نیچلا کے پاس اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے ٹھوس ثبوت نہیں ہیں، لیکن وہ اپنے دعوے کو ٹرمپ اور ان کے بچوں سے مشابہت کی بنیاد پر درست سمجھتی ہیں اور اپنے دستاویزی ریکارڈ میں موجود تضادات کو اس کا ثبوت قرار دیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی سے تیار ویڈنگ اسپیچ میں اہم غلطی، عدالت نے شادی منسوخ کردی

گزشتہ ستمبر میں انقرہ کی فیملی کورٹ نے نیچلا کی پیتھرنیٹی ٹیسٹ کے لیے درخواست مسترد کر دی تھی کیونکہ فراہم کیے گئے شواہد اس بات کے لیے ناکافی تھے۔

ترکی میں غیر ملکی شہریوں کے لیے DNA ٹیسٹ کے لیے کافی ثبوت پیش کرنا ضروری ہے۔ اس کے باوجود، نیچلا نے ہمت نہیں ہاری اور اس فیصلے کے خلاف اپیل کی ہے۔ وہ امریکی سفارت خانے اور امریکی عدالتوں سے جواب کی منتظر ہیں۔