برفانی دور کے ایک بھیڑیے کے بچے کے آخری کھانے نے اون دار گینڈے کی معدومی سے متعلق سائنسی کہانی ہی بدل کر رکھ دی ہے۔
تقریباً 14 ہزار 400 سال قبل مرنے والے اس بھیڑیے کے بچے کے معدے سے ملنے والے شواہد نے ماہرین کو یہ جاننے میں مدد دی کہ برفانی دور کے اون دار گینڈے کی نسل اچانک کیسے ختم ہوئی ہے۔

یہ بھیڑیا بچہ 2011 میں سائبیریا کی منجمد زمین سے ملا تھا۔ اس کے معدے میں موجود گوشت کا تجزیہ پہلے ہی یہ ظاہر کرچکا تھا کہ اس نے مرنے سے کچھ دیر قبل اون دار گینڈے کا گوشت کھایا تھا۔ اب ماہرین نے اسی گوشت سے گینڈے کا جینیاتی خاکہ تیار کیا جس کے نتائج حیران کن نکلے۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ اون دار گینڈے کی آبادی میں نہ تو طویل عرصے سے کمی آرہی تھی اور نہ ہی آپس میں قریبی افزائش کے آثار پائے گئے۔
اس سے یہ نظریہ کمزور ہوگیا کہ یہ جانور بتدریج جینیاتی کمزوری کا شکار ہوکر ختم ہوا۔ اس کے برعکس شواہد بتاتے ہیں کہ اس کی معدومی اچانک اور تیزی سے ہوئی۔
سائنس دانوں کے مطابق معدومیت سے عین پہلے کے دور میں رہنے والے جانوروں کے جینیاتی شواہد حاصل کرنا نہایت مشکل ہوتا ہے مگر یہ معلومات اس بات کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں کہ کوئی نسل کیوں ختم ہوئی۔
اس تحقیق میں پہلی بار کسی برفانی دور کے جانور کا مکمل جینیاتی خاکہ ایسے نمونے سے حاصل کیا گیا جو کسی دوسرے جانور کے معدے میں محفوظ تھا۔
عام طور پر قدیم باقیات میں موجود جینیاتی مواد وقت کے ساتھ خراب ہوجاتا ہے لیکن منجمد زمین میں محفوظ نمونے اس تباہی سے کسی حد تک محفوظ رہتے ہیں۔ اس بھیڑیے کے بچے نے گینڈے کا گوشت اتنی جلدی کھایا اور مرا کہ جینیاتی مواد محفوظ رہا۔
ماہرین نے اس جینیاتی خاکے کا موازنہ دو دیگر اون دار گینڈوں سے کیا جو ہزاروں سال پہلے کے تھے۔ تینوں نمونوں میں جینیاتی صحت تقریباً ایک جیسی پائی گئی جس سے ثابت ہوا کہ یہ نسل معدومی سے پہلے تک مستحکم تھی۔
نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ اون دار گینڈا کسی طویل زوال کا شکار نہیں ہوا بلکہ ممکنہ طور پر بدلتے ہوئے موسمی حالات کے باعث اچانک ختم ہوگیا۔
چونکہ یہ جانور انسانوں کے ساتھ ہزاروں سال تک موجود رہا، اس لیے ماہرین کا خیال ہے کہ انسانی شکار کے بجائے موسمی تبدیلیاں اس کی معدومی کی اصل وجہ بنیں۔




















