سائنسدانوں نے عرب کے صحرائی علاقے میں ایک غیر معمولی دریافت کرتے ہوئے غاروں سے چیتوں کی محفوظ شدہ لاشیں برآمد کرلیں۔
یہ دریافت سعودی عرب کے شمالی حصے میں واقع شہر عرعر کے قریب کی گئی، جہاں تحقیق کے دوران سات مکمل محفوظ شدہ چیتے اور مزید چون چون دیگر چیتوں کی ہڈیاں بھی ملی ہیں۔
تحقیقی ٹیم کے مطابق ان چیتوں کی باقیات کی عمر مختلف ہے جن میں سے کچھ لگ بھگ 130 سال پرانی ہیں جب کہ چند کی عمر 1800 سال سے بھی زیادہ بتائی جارہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ محفوظ شدہ لاشیں وہ ہوتی ہیں جن میں جسم سڑنے گلنے سے محفوظ رہتا ہے۔ اگرچہ دنیا میں سب سے زیادہ مشہور محفوظ شدہ لاشیں مصر سے تعلق رکھتی ہیں تاہم بعض اوقات قدرتی حالات جیسے برفانی علاقوں، دلدلی زمین یا خشک صحراؤں میں بھی یہ عمل خود بخود ہوجاتا ہے۔
ان چیتوں کی باقیات کی حالت حیران کن ہے۔ ان کی آنکھیں دھندلی ہوچکی ہیں اور اعضا سکڑ کر خشک ڈھانچے کی شکل اختیار کرگئے ہیں۔
اٹلی کی فلورنس یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی ایک ماہرِ حیاتیات نے اس دریافت کو انتہائی انوکھا قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں ایسی مثال کبھی نہیں دیکھی۔
سائنسدان ابھی تک اس بات کا تعین نہیں کرسکے کہ یہ چیتے کس طرح محفوظ حالت میں رہے تاہم ان غاروں کا خشک ماحول اور درجہ حرارت میں استحکام اس کی ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین یہ بھی نہیں جانتے کہ اتنی بڑی تعداد میں چیتے ان غاروں میں کیوں موجود تھے تاہم خیال ہے کہ یہ علاقہ مادہ چیتوں کے لیے بچوں کی پیدائش اور پرورش کا مسکن ہوسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بڑے جانوروں کا اس حد تک محفوظ رہ جانا انتہائی کم ہوتا ہے کیونکہ عموماً مردہ جسم شکاری پرندوں یا دوسرے جانوروں کی خوراک بن جاتے ہیں۔
سعودی عرب کے نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف سے وابستہ ایک محقق نے کہا کہ اس خطے میں قدیم دور کے چیتوں کے اس قدر مکمل شواہد ملنا ایک بے مثال واقعہ ہے۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان چیتوں کا جینیاتی تعلق ایشیا اور شمال مغربی افریقہ میں پائے جانے والے موجودہ چیتوں سے مشابہت رکھتا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ یہ معلومات مستقبل میں چیتوں کو ان علاقوں میں دوبارہ متعارف کرانے کی کوششوں میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں، جہاں وہ کئی دہائیوں سے ناپید ہوچکے ہیں۔




















