امریکہ سے تعلق رکھنے والے زیک کلارک نامی شخص نے پہلی مرتبہ اپنی گن 9 ایم ایم کے لیے آلو کو قانونی طور پر گن سائلنسر کے طور پر رجسٹر کروا لیا۔
زیک کلارک وہ پہلے شخص نہیں ہیں جنہوں نے جس نے آلو کو بندوق کے سائلنسر کے طور پر استعمال کوشش کی، تاہم وہ حال ہی میں پہلے شخص بنے ہیں جنہوں نے اسے بیورو آف الکحل، تمباکو، آتشیں اسلحہ، اور دھماکہ خیز مواد اے ایف ٹی سے قانونی طور پر منظور کرایا۔
زیک کلارک نے یہ سب اس لیے کیا تاکہ اس مضحکہ خیز قانون کی نشاندہی کی جاسکے، جو کسی بھی عجیب و غریب ڈیزائن کو منظور کرنے کی اجازت دیتا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ایک طریقہ ہے تاکہ لوگوں کو یہ دکھایا جا سکے کہ یہ کتنا بے وقوفانہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ؛ خاتون کی معمولی غلطی خوش قسمتی میں بدل گئی
اس نئے قانون، جسے نیشنل فائرآرمز ایکٹ (NFA) کہا جاتا ہے، نے اس عمل کو ممکن بنایا۔ اس قانون کے تحت اب کوئی بھی شخص اپنے سائلنسر ڈیزائن کو قانونی طور پر منظور کروا سکتا ہے، جبکہ اس کی کوئی فیس بھی نہیں ہے، یہ قانون صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے “ون بگ بیوٹیفول بل” کا حصہ ہے۔
زیک کلارک نے سائلنسر کے لیے تین آلو کے درخواست دی تھی، جن میں سے دو کو منظورکرلیا گیا، حالانکہ دیگر تھری ڈی پرنٹڈ ڈیزائنز بھی یکساں دستاویزات کے ساتھ دیے گئے تھے۔
زیک کلارک نے کہا کہ اے ٹی ایف کے عملے کے پاس شاید اتنی زیادہ درخواستیں آتی ہیں کہ ان کے پاس ان سب کو جانچنے کا وقت نہیں ہے۔
اگرچہ کچھ یوٹیوب چینلز نے آلو کو گن سائلنسر کے طور پر آزمایا ہے تاہم ان کا تجربہ اتنا کامیاب نہیں رہا۔
زیک کلارک کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ سائلنسر کتنا موثر ہے ان کا مقصد صرف تفریح کرنا اور حکومت کے خلاف مزاحیہ انداز میں احتجاج کرنا تھا۔




















