Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سمندر کی تہہ میں اچانک اندھیرا: ساحلی ماحولیاتی نظام کے لیے نیا خطرہ

سمندر میں روشنی کے اچانک غائب ہونے کی بڑی وجوہات میں تلچھٹ، الجی بلومز اور حل شدہ نامیاتی مادہ شامل ہیں

ساحلی علاقوں میں کبھی کبھار سمندر کا پانی اچانک شفاف سے دھندلا ہو جاتا ہے اور سمندر کی تہہ تک پہنچنے والی روشنی تقریباً غائب ہو جاتی ہے۔

اس عمل کو ماہرین نے “میرین ڈارک ویوز” کا نام دیا ہے، جو کم عرصے کے لیے مگر شدید نوعیت کی زیرِ آب تاریکی ہوتی ہے اور کیلب، سی گراس اور دیگر سمندری حیات کو فوری دباؤ میں ڈال دیتی ہے۔

یونیورسٹی آف وائی کاٹو کی نئی تحقیق میں پہلی بار میرین ڈارک ویوز کو واضح آغاز اور اختتام کے ساتھ قابلِ پیمائش واقعات کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔

اس تحقیق کی قیادت پوسٹ ڈاکٹریٹ محقق فرانسوا تھورال نے کی، جو یہ جانچ رہے ہیں کہ دھندلا پانی سمندری ماحولیاتی نظام کو کس طرح بدلتا ہے۔

تحقیق کے مطابق سمندر میں روشنی کے اچانک غائب ہونے کی بڑی وجوہات میں تلچھٹ، الجی بلومز اور حل شدہ نامیاتی مادہ شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: جاپان کے سمندر میں ڈوبا ہوا پراسرار شہر؟ حقیقت نے سائنسدانوں کو بھی حیران کردیا

جب طوفان یا دریا پانی میں مٹی اور ذرات کی مقدار بڑھا دیتے ہیں تو پانی کی شفافیت کم ہو جاتی ہے، سورج کی روشنی بکھر جاتی ہے اور سمندر کی تہہ اندھیرے میں ڈوب جاتی ہے۔

ماہرین نے ایسے واقعات کو ریکارڈ کے لیے کیلیفورنیا اور نیوزی لینڈ میں طویل مدتی ریکارڈز استعمال کیے۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی سانتا باربرا میں 16 سال تک روزانہ روشنی ناپی گئی، جبکہ نیوزی لینڈ میں مختلف گہرائیوں پر 10 سے 21 سال کا ڈیٹا حاصل کیا گیا۔

یہ طویل ریکارڈ اس لیے ضروری تھا کہ موسمی تبدیلیوں سے ہٹ کر حقیقی ڈارک ویوز کی شناخت ہو سکے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ میرین ڈارک ویوز کی مدت پانچ دن سے دو ماہ تک ہو سکتی ہے، اور بعض اوقات یہ سمندر کی تہہ تک پہنچنے والی روشنی کو تقریباً ختم کر دیتی ہیں۔

نیوزی لینڈ کے ایسٹ کیپ علاقے میں 2002 کے بعد ایسے 25 سے 80 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو اکثر شدید موسمی حالات کے بعد سامنے آئے۔

روشنی پر انحصار کرنے والے پودے سمندری خوراکی زنجیر کی بنیاد ہوتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق روشنی میں کمی سے کیلب اور سی گراس کی فوٹو سنتھیسز سست ہو جاتی ہے، جس سے توانائی اور پیداوار میں نمایاں کمی آتی ہے۔

ایک مطالعے میں روشنی میں 63 فیصد کمی کے ساتھ کیلب کی پیداوار میں 95 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔

اندھیرا صرف پودوں ہی نہیں بلکہ جانوروں کو بھی متاثر کرتا ہے۔

دھندلے پانی میں مچھلیوں کی دیکھنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے، جس سے شکار، جھنڈ میں حرکت، افزائشِ نسل اور ہجرت کے اشارے متاثر ہو سکتے ہیں۔

تاہم جانوروں پر اثرات کے بارے میں تحقیق ابھی محدود ہے۔

ماہرین کے مطابق اکثر یہ اندھیرا خشکی سے شروع ہوتا ہے، جب بارش یا جنگلاتی آگ کے بعد مٹی اور ملبہ دریاؤں کے ذریعے سمندر تک پہنچتا ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واٹرشیڈ مینجمنٹ اور کٹاؤ پر قابو پا کر سمندری ماحول کو بچایا جا سکتا ہے۔

سیٹلائٹس کی مدد سے اب بڑے ساحلی علاقوں میں میرین ڈارک ویوز کی نگرانی ممکن ہو گئی ہے، اگرچہ بادل اور طوفان بعض اوقات ڈیٹا میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ میرین ڈارک ویوز کی معیاری تعریف بالکل ویسی ہی اہم ہے جیسے کبھی میرین ہیٹ ویوز کی تھی، کیونکہ اس سے ماحولیاتی دباؤ کو بہتر طور پر سمجھا اور سنبھالا جا سکتا ہے۔

یہ تحقیق سائنسی جریدے Communications Earth & Environment میں شائع ہوئی ہے۔