سنسنی خیز مہم جوئی کے شوقین امریکی کوہ پیما الیکس ہونولڈ نے ایک بار پھر دنیا کو حیران کر دیا۔ انہوں نے تائیوان کے دارالحکومت تائی پے میں واقع 101 منزلہ مشہور فلک بوس عمارت تائی پے 101 کو بغیر کسی رسی، ہارنس یا حفاظتی آلات کے کامیابی سے سر کر لیا۔
508 میٹر بلند یہ عمارت اسٹیل، شیشے اور کنکریٹ سے تعمیر کی گئی ہے اور اس کا منفرد ڈیزائن بانس کی لکڑی سے مشابہ ہے۔ الیکس ہونولڈ نے اس خطرناک چڑھائی کو صرف ایک گھنٹہ اور 31 منٹ میں مکمل کر کے ایک نیا سنگ میل قائم کر دیا۔
یہ جرات مندانہ مہم پہلے ہفتے کے روز طے تھی، تاہم خراب اور نم موسم کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا۔ یہ مہم نیٹ فلکس پر براہِ راست دکھائی گئی، البتہ نیٹ فلکس انتظامیہ نے احتیاطی طور پر لائیو نشریات میں تاخیر کا انتظام بھی رکھا تھا تاکہ کسی ناخوشگوار صورتحال کی صورت میں نشریات فوری روکی جا سکیں۔
نیٹ فلکس کے ایگزیکٹو جیف گیسپن کے مطابق اگر مہم کے دوران کسی حادثے کا خدشہ پیدا ہوتا تو براہِ راست نشریات بند کر دی جاتیں۔ خوش قسمتی سے الیکس ہونولڈ نے یہ خطرناک چڑھائی کامیابی سے مکمل کی اور اپنی کامیابی کو غیر معمولی قرار دیا۔
واضح رہے کہ الیکس ہونولڈ اس سے قبل بھی تاریخ رقم کر چکے ہیں، جب وہ امریکا کی ریاست کیلیفورنیا میں واقع 915 میٹر بلند مشہور گرینائٹ چٹان ایل کیپیٹن کو بغیر کسی حفاظتی سامان کے سر کرنے والے پہلے شخص بنے تھے۔
اس سے قبل تائی پے 101 پر چڑھنے کا واحد ریکارڈ فرانسیسی کوہ پیما ایلین رابرٹ کے پاس تھا، جنہیں ’اسپائیڈر مین‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے رسی اور ہارنس کی مدد سے چار گھنٹوں میں یہ کارنامہ انجام دیا تھا، جب کہ الیکس ہونولڈ نے ان کا ریکارڈ آدھے سے بھی کم وقت میں توڑ دیا۔
