Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

دانتوں سے داغ صاف کرنے قدیم طریقہ آج بھی کار آمد

یہ پاؤڈر پی زو الیکٹریکٹی کے اصول پر کام کرتا ہے جب اسے برقی ٹوتھ برش کے ذریعے دانتوں پر لگا کر وائبریٹ کیا جاتا ہے تو اس میں برقی چارج پیدا ہوتا ہے

شنگھائی کے محققین نے ایک نیا پاؤڈر تیار کیا ہے جو دانتوں کو موتیوں کی طرح سفید کرنے ساتھ  مرمت کرنے کا کام بھی انجام دیتا ہے تاہم اس پاؤڈر کو استعمال کرنے برقی ٹوتھ برش درکار ہے،کیونکہ اسی کی وائبریشن سے یہ پاؤڈر کام کرتا ہے۔

قدیم دور تقریباً 5,000 سال قبل مصرکے لوگ دانتوں کے لیے کھردرے اجزاء جیسے کہ گائے کے کھروں کی راکھ اور جلے ہوئے انڈوں کے چھلکے استعمال کرتے تھے، تاہم اسی طریقہ کارکو مد نظر رکھتے ہوئے چینی محققین نے دانتوں کے لیے نیا پاؤڈر متعارف کرایا ہے۔

یہ پاؤڈر پی زو الیکٹریکٹی کے اصول پر کام کرتا ہے جب اسے برقی ٹوتھ برش کے ذریعے دانتوں پر لگا کر وائبریٹ کیا جاتا ہے تو اس میں برقی چارج پیدا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کا پہلا دانتوں کو ازخود صاف کرنے والا روبوٹ تیار

اس پاؤڈر میں موجود سیرامک ذرات اسٹرونٹیم اور کیلشیم آئنز کے ساتھ باریئم ٹائیٹینیٹ سے بنے ہیں۔ جب برقی ٹوتھ برش کی ذریعے سے ان ذرات پر دباؤ آتا ہے تو یہ چھوٹا سا کیمیائی ردعمل پیدا کرتا ہے۔

اسی کیمیائی ردعمل کے نتیجے میں ری ایکٹو آکسیجن مرکبات بنتے ہیں، یہ وہی مالیکیول ہوتے ہیں جو دانتوں کے اسٹرپس اور جیل میں استعمال ہوتے ہیں اور داغوں کو صاف کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

محققین نے جب اس پاؤڈر ایک ایسے شخص کے دانتوں پر آزمایا جن پر چائے اور کافی داغ تھے تو چار گھنٹوں کے برش کرنے سے داغ صاف ہوکر نمایاں سفید ہوگئے جبکہ بارہ گھنٹوں کے برش کرنے سے دانتوں کی سفیدی تقریباً 50 فیصد زیادہ ہو گئی۔

 اہم بات یہ ہے کہ یہ پاؤڈر دانتوں کی اینامل کو نقصان پہنچانے کے بجائے مرمت جیسا عمل انجام دیتا ہے، کیونکہ پاؤڈر میں موجود کیلشیم اور باریئم آئنز موجود ہیں جو برش کرنے کے دوران دانتوں کی سطح پر جمع ہوجاتے ہیں۔

چوہوں پر تجربات

محققین نے چوہوں پر بھی تجربات کیے جو زیادہ چینی والی غذا کھا رہے تھے۔ ایک منٹ تک روزانہ برش کرنے سے نہ صرف چوہوں کے منہ کی صحت بہتر ہوئی بلکہ ان میں دانتوں کی سوزش کم ہوئی اور وہ بیکٹیریا بھی مارے گئے جو پیریوڈونٹائٹس (دانتوں کی جڑوں کی بیماری) کا سبب بنتے ہیں۔

اس پاؤڈر کو ابھی تک کمرشل ٹوتھ پیسٹ میں تبدیل نہیں کیا گیا، تاہم یہ تحقیق ایک نئے طریقے کی طرف اشارہ کرتی ہے جس میں ایک قدیم دانتوں کے علاج کو جدید طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔