یونان میں دنیا کے قدیم ترین لکڑی کے اوزار دریافت کرلیے گئے۔ یہ اوزار ایک جھیل کے کنارے سے دریافت ہوئے۔
سائنسدان اسے قدیم ترین لکڑی کے اوزار قرار دے رہے ہیں جو تقریباً 4 لاکھ 30 ہزار سال پرانے ہیں ۔ دریافت ہونے والے اوزاروں میں ایک پتلا لکڑی کا ڈنڈا شامل ہے.
اس ڈنڈے کی لمبائی تقریباً ڈھائی فٹ ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسے کیچڑ یا زمین کھودنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہوگا۔
دوسرا اوزار نسبتاً چھوٹا ہے جو ولو یا پاپلر کے درخت کی لکڑی سے بنا ہوا معلوم ہوتا ہے ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اسے پتھر کے اوزار بنانے یا تراشنے میں استعمال کیا گیا ہوگا۔
ماہرین کیا کہتے ہیں ؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ قدیم انسان پتھر، ہڈی اور لکڑی کے مختلف اوزار استعمال کرتے تھے۔تاہم لکڑی کے اوزار وقت کے ساتھ گل سڑ جانے کی وجہ سے شاذ و نادر ہی محفوظ رہ پاتے ہیں۔
ایسے اوزار عموماً برف، غاروں یا پانی کے اندر جیسے مخصوص ماحول میں ہی محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اس مقام سے اس سے قبل بھی پتھر کے اوزار اور ہاتھیوں کی ہڈیاں ملی تھیں جن پر کٹاؤ کے نشانات موجود ہیں۔
اگرچہ لکڑی کے اوزاروں کی براہ راست تاریخ معلوم نہیں کی جا سکی ۔ نتاہم جس مقام سے یہ ملے وہ تقریباً 4 لاکھ 30 ہزار سال قدیم ہے، جس سے ان اوزاروں کی عمر کا اندازہ لگایا گیا۔
یونان سے ملنے والی یہ نئی دریافت قدیم انسانوں کی ٹیکنالوجی کے ایک کم معلوم پہلو پر روشنی ڈالتی ہے ۔یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ وہ بقا کے لیے کس طرح کے اوزار استعمال کرتے تھے۔

اوزاروں کی نوعیت کیاہے ؟
ابھی تک اس مقام سے انسانی باقیات دریافت نہیں ہو سکیں اس لیے یہ واضح نہیں کہ یہ اوزار کس نے استعمال کیے۔
واضح رہے ماضی میں بھی جرمنی سے لکڑی کے قدیم نیزے اور چین سے تقریباً 3 لاکھ سال پرانے کھدائی کے اوزار دریافت ہو چکے ہیں۔




















