Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

برطانیہ کے ساحلوں پر نایاب آکٹوپس کی غیر معمولی یلغار کی وجہ کیا ہے؟

برطانیہ کے جنوبی ساحلی علاقوں میں سال 2025 کے دوران ایک غیر معمولی اور حیران کن قدرتی واقعہ دیکھنے میں آیا۔

برطانیہ کے جنوبی ساحلی علاقوں میں سال 2025 کے دوران ایک غیر معمولی اور حیران کن قدرتی واقعہ دیکھنے میں آیا جب سمندر میں آکٹوپس کی تعداد اچانک غیر معمولی حد تک بڑھ گئی۔

یہ منظر خاص طور پر ڈیون اور کارنوال کے ساحلوں کے قریب دیکھا گیا، جہاں ماہی گیروں کو جالوں اور پنجروں میں بڑی تعداد میں آکٹوپس ملنے لگے۔

ماہی گیروں کے مطابق ابتدا میں جالوں میں صرف کیکڑے اور جھینگے کے خالی خول نظر آتے تھے مگر جلد ہی نارنجی رنگ کے آکٹوپس ان پنجروں میں نظر آنے لگے۔ بعض اوقات ایک ہی جال میں ایک درجن سے زائد آکٹوپس موجود ہوتے جو پچھلے 75 برسوں میں پہلی بار دیکھا گیا۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق سال 2025 میں آکٹوپس کا شکار معمول سے تقریباً 65 گنا زیادہ رہا۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ اسے عام آکٹوپس کہا جاتا ہے مگر یہ برطانوی پانیوں میں عموماً نہیں پایا جاتا۔

یہ زیادہ تر جنوبی یورپ، بحیرہ روم اور شمالی افریقہ کے گرم علاقوں میں رہتا ہے تاہم مخصوص برسوں میں ان کی تعداد اچانک بڑھ جاتی ہے جیسا کہ 1900، 1950 اور اب 2025 میں ہوا۔

ماہرین سمندری ماحولیات کا کہنا ہے کہ آکٹوپس کی زندگی مختصر ہوتی ہے اور یہ تیزی سے افزائش اور پھر موت کے عمل سے گزرتا ہے جس کی وجہ سے یہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے بہت جلد متاثر ہوتا ہے۔

تحقیق سے پتا چلا ہے کہ سمندر اور فضا میں غیر معمولی حدت، جسے سمندری گرمی کی لہریں کہا جاتا ہے آکٹوپس کی آبادی میں تیزی سے اضافے کا سبب بنتی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ساحلوں میں نمکیات کی مقدار میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی جو اس بات کا اشارہ ہے کہ تازہ پانی بڑی مقدار میں سمندر میں شامل ہوا۔ یہ پانی فرانس کے دریاؤں یا مشرقی ہواؤں کے ذریعے آیا جس سے آکٹوپس کے بچے برطانوی پانیوں تک پہنچے۔

ابتدا میں یہ صورتحال ماہی گیروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی کیونکہ آکٹوپس نے کیکڑوں، جھینگوں اور یہاں تک کہ قیمتی خول دار مچھلیوں کو بھی کھانا شروع کردیا۔

تاہم بعد میں ماہی گیروں نے اسے ایک موقع میں بدل دیا اور آکٹوپس کا شکار شروع کیا جس سے چند ہی دنوں میں لاکھوں پاؤنڈ کی آمدن حاصل ہوئی۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگرچہ یہ وقتی فائدہ تھا مگر دیگر سمندری مخلوق کی تعداد میں شدید کمی مستقبل کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

موسمی تبدیلیوں کے باعث اگر آکٹوپس مستقل طور پر ان پانیوں میں رہنے لگے تو ماہی گیری کے نظام کو پائیدار اور اخلاقی اصولوں کے تحت چلانا ناگزیر ہوگا۔