Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سرد موسم کے ایسے طبی اثرات جو آپ کو چونکا سکتے ہیں!

سرد موسم کے جسم اور ذہن پر مرتب ہونے والے حیرت انگیز اثرات

ملک کے مختلف حصوں میں موسم تیزی سے سرد ہوتا جارہا ہے اور درجۂ حرارت میں اس تبدیلی کے اثرات صرف ماحول تک محدود نہیں رہتے بلکہ انسانی جسم اور ذہن پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق موسم کی تبدیلی کے ساتھ جسم میں کئی ایسی تبدیلیاں آتی ہیں جنہیں نظر انداز کرنا صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

 سرد موسم میں ان اثرات کو سمجھنا اور ان سے نمٹنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا سال بھر صحت مند رہنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ذیل میں سرد موسم کے وہ اثرات بیان کیے جارہے ہیں جو بعض اوقات لوگوں کے لیے حیران کن بھی ہو سکتے ہیں:

سردی اور وزن میں کمی

طبی تحقیقات کے مطابق سرد موسم میں جسم کو گرم رکھنے کے لیے زیادہ کیلوریز جلانی پڑتی ہیں، جس کے باعث وزن کم کرنے میں کچھ حد تک مدد مل سکتی ہے۔

اگرچہ یہ عمل اکیلا موٹاپے کے خاتمے کے لیے کافی نہیں، تاہم ورزش اور متوازن غذا کے ساتھ یہ اضافی چربی کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

انگلیوں کا سکڑ جانا

سردیوں میں اکثر افراد محسوس کرتے ہیں کہ ان کی انگوٹھیاں ڈھیلی ہوجاتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق گرم موسم میں انگلیوں کی ہڈیاں پھیلتی ہیں جبکہ سردی میں یہ سکڑ جاتی ہیں، جس کا مقصد جسم کی حرارت کو محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔

ہڈیوں اور جوڑوں کا درد

سرد موسم میں بعض افراد کو ہڈیوں اور جوڑوں میں درد کی شکایت بڑھ جاتی ہے، خاص طور پر ہاتھوں، پیروں اور کانوں میں، اس کی وجہ خون کی چھوٹی نالیوں میں گردش کا بدلنا ہوتا ہے۔

یہ کیفیت خطرناک نہیں مگر تکلیف دہ ہوسکتی ہے، جس سے بچاؤ کے لیے گرم لباس پہننا ضروری ہے۔

بینائی پر اثرات

سخت سردی، تیز ہوا اور برفباری آنکھوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ برفیلے علاقوں میں سن گلاسز کا استعمال آنکھوں کو نقصان سے بچاسکتا ہے۔

چہرے کا سرخ ہوجانا

سردی میں جسم خون کو اہم اعضا جیسے دل اور پھیپھڑوں کی جانب منتقل کرتا ہے، جس سے چہرے پر خون کی فراہمی کم ہوجاتی ہے، تاہم گرم جگہ پر آنے کے بعد خون کی روانی بحال ہونے سے چہرہ سرخ ہوسکتا ہے۔

دل کے دورے کا بڑھتا خطرہ

سرد موسم میں دل کے مریضوں، خاص طور پر بزرگ افراد میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جسم کو گرم رکھنے کے عمل میں دل پر اضافی دباؤ پڑتا ہے اور بلڈ پریشر میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

مزاج میں تبدیلی

سردیوں میں سورج کی روشنی کم ملنے کے باعث وٹامن ڈی کی کمی ہوسکتی ہے، جس کا اثر مزاج پر پڑتا ہے اور اداسی یا چڑچڑاہٹ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

آنکھوں اور ناک کا خشک ہونا

سرد موسم میں ہوا میں نمی کم ہوجاتی ہے، جس کے باعث آنکھیں اور ناک خشک ہوسکتی ہے، یہ جسم کا قدرتی ردعمل ہوتا ہے تاکہ دیگر اعضا میں نمی برقرار رکھی جا سکے۔

ناک کا بہنا

سردی کے دوران جسم خشکی کا مقابلہ کرنے کے لیے بلغم اور آنسو زیادہ بناتا ہے، جس کے نتیجے میں ناک بہنے کی شکایت عام ہوجاتی ہے۔

زیادہ پیشاب آنا

سرد موسم میں خون کا بہاؤ اہم اعضا کی جانب بڑھتا ہے، جس سے بلڈ پریشر میں اضافہ ہوتا ہے اور گردے اضافی سیال خارج کرنے لگتے ہیں، نتیجتاً پیشاب کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔

سانس لینے میں مشکل

ٹھنڈی ہوا میں سانس لینے سے پھیپھڑوں کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں، جس سے سانس لینے میں مشکل پیش آسکتی ہے، خاص طور پر دمہ اور سانس کے مریضوں کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔