Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سرجنز کا حیران کن کارنامہ؛ انسان کو 48 گھنٹے بغیر پھیپھڑوں کے زندہ رکھا

33 سالہ مریض 2023 میں انفلوئنزا کے باعث پھیپھڑوں کی ناکامی کا شکار ہوا تھا۔

امریکا کی یونیورسٹی آف نارتھ ویسٹرن کے سرجنز نے ایک حیرت انگیز کامیابی حاصل کی جس میں ٹرانسپلانٹ کے دوران مریض کو دو دن تک بغیر پھیپھڑوں کے زندہ رکھا گیا تھا۔

33 سالہ مریض 2023 میں انفلوئنزا کے باعث پھیپھڑوں کی ناکامی کا شکار ہوا اور اس کی حالت تیزی سے پھیپھڑوں کی سوزش، نمونیا اور شدید سانس کی دشواری تک پہنچ گئی تھی۔

پھیپھڑوں میں انفیکشن اتنا شدید تھا کہ کوئی اینٹی بایوٹک کام نہیں کررہا تھا اور وہ مائع میں تبدیل ہوچکے تھے۔

عام طریقہ یہ ہوتا کہ مریض کو لائف سپورٹ پر رکھا جائے تاکہ پھیپھڑے خود ٹھیک ہوجائیں لیکن اس کیس میں پھیپھڑے ہی مسئلے کا سبب اور انفیکشن کا ذریعہ تھے۔

دونوں پھیپھڑوں کو نکالنا عموماً دل کی ناکامی کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ خون کے بہاؤ میں خلل پیدا ہوجاتا ہے۔

اس مسئلے کا حل ٹوٹل آرٹیفیشل لنگ سسٹم تھا جو خون کو آکسیجن فراہم کرتا ہے، جیسے ہمارے پھیپھڑے کرتے ہیں اور دل کی حفاظت کرتا ہے۔

اس میں دوہرا خون بہاؤ چینلز اور فلو ایڈاپٹیو شَنٹ شامل کیے گئے تاکہ خون کے بہاؤ میں تبدیلیاں متوازن رہ سکیں۔ یہ مشین مریض کو اتنی دیر زندہ رکھ سکی کہ اس کے جسم نے ٹرانسپلانٹ کے قابل حالت اختیار کرلی۔

پھیپھڑوں کے نکالنے کے بعد ان کا جینیاتی اور مالیکیولر تجزیہ کیا گیا جس سے یہ واضح ہوا کہ پھیپھڑے خود بخود بہتر نہیں ہوسکتے تھے اور ٹرانسپلانٹ لازمی تھا۔

ڈاکٹر انکت کے مطابق یہ تکنیک مستقبل میں شدید پھیپھڑوں کے نقصان والے مریضوں کی جان بچانے کے لیے استعمال ہوسکتی ہے بشرطیکہ ڈونر پھیپھڑوں تک بروقت رسائی ہو۔

یہ کامیابی یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ دوہرا پھیپھڑوں کا ٹرانسپلانٹ شدید کیسز میں ممکن اور کامیاب ہوسکتا ہے۔

اب مریض صحتیاب ہوچکا ہے اور نئے پھیپھڑے مکمل طور پر فعال ہیں جس سے یہ ثابت ہوا کہ جدید طبی ٹیکنالوجی کے ذریعے انتہائی خطرناک حالات میں بھی زندگی بچائی جاسکتی ہے۔