سر کسی بھی جاندار کے جسم کا ایک انتہائی اہم حصہ ہوتا ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں تاہم ایک گولڈفش سر کھودنے کے بعد بھی معجزاتی طور پر دو ہفتے تک زندہ رہی۔
گزشتہ ماہ کے آخر میں ایک چینی شخص نے ایکویریم میں تیرتی ہوئی گولڈ فش کی ویڈیو اپ لوڈ کی جس کے سر پر ایک بڑا سا سوراخ تھا، چینی شخص کے مطابق مچھلی کئی دنوں سے اسی حالت میں تھی، اور فش ٹینک کی دیواروں سے ٹکرائے بغیر تیررہی تھی حالانکہ وہ اپنی آنکھیں، منہ اور دماغ کا ایک حصہ کھو چکی تھی۔
جب اس سے پوچھا گیا کہ مچھلی اس حالت تک کیسے پہنچی، تو مالک نے بتایا کہ اس کے سر کا ٹشو خراب ہو کر گلنے سڑنے لگا تھا، جس کی وجہ ممکنہ طور پر انفیکشن یا پانی کا خراب معیار تھا۔
جیسے جیسے ٹشو مردہ ہوتے گئے، دوسری مچھلیاں بیمار مچھلی کو مارنے لگیں، جس سے یہ معاملہ مزید خراب ہوگیا اور مچھلی نے سر کا بڑا حصہ کھو دیا۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ مچھلی اس حالت میں کیسے زندی رہی، اس کی بنیادی وجہ مچھلی کی جسمانی ساخت ہے۔ انسانوں اور دیگر ممالیہ جانوروں کے برعکس، گولڈ فش کا دماغ زیادہ لمبی اور سیدھی ساخت رکھتا ہے، جو سر سے شروع ہو کر جسم کے اندر تک پھیلا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غیر ملکی ایلین مچھلی سے پاکستان کی آبی حیات کو خطرات لاحق
مچھلی کے دماغ کا اگلا حصہ سونگھنے، یادداشت اور بصارت جیسے اعلیٰ افعال انجام دیتا، جبکہ (برین اسٹیم)، جو زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے سب سے اہم حصہ ہے، جسم میں ریڑھ کی ہڈی کے قریب واقع ہوتا ہے۔ جب تک برین اسٹیم محفوظ رہے گا، مچھلی گلپھڑوں کے ذریعے سانس لے سکتی ہے اور خون کی گردش برقرار رکھ سکتی ہے، جبکہ مچھلی کے تیرنے کے لیے دماغ سے مسلسل احکامات ضروری نہیں ہوتے بلکہ یہ عمل ریڑھ کی ہڈی میں موجود خودکار عصبی نیٹ ورکس کے ذریعے انجام پاتا ہے، اس لیے سر کے نقصان سے یہ صلاحیت متاثر نہیں ہوتی۔

اس کے علاوہ، مچھلیوں کے جسم کے دونوں جانب دباؤ محسوس کرنے والے حساس خلیات کا ایک نظام ہوتا ہے، جو حیاتیاتی سونار کی طرح کام کرتا ہے اور آنکھوں کے بغیر بھی راستے میں آنے والی رکاوٹوں سے بچنے میں مدد دیتا ہے۔
https://www.bilibili.com/video/BV1jgvrBhEWo/?spm_id_from=888.80997.embed_other.whitelist&t=12.051868&bvid=BV1jgvrBhEWo
مالک کے مطابق یہ مچھلی تقریباً دو ہفتے تک زندہ رہی، اس کے بعد وہ اپنی شدید چوٹوں کے باعث مر گئی۔ تاہم، تکنیکی طور پر اس کی موت میٹھے پانی کی وجہ سے ہونے والے اعضاء کے ناکارہ ہونے کے سبب ہوئی۔
میٹھے پانی کی مچھلیوں کو ہمیشہ اوسموسس کے دباؤ کا سامنا رہتا ہے کیونکہ ان کے جسم میں نمکیات کی مقدار اردگرد کے پانی سے زیادہ ہوتی ہے۔ عام حالات میں ان کی جلد پانی کے زیادہ داخل ہونے کو روکتے ہیں، جبکہ گردے اضافی پانی خارج کرتے ہیں۔ لیکن سر پر موجود بڑے زخم کی وجہ سے پانی مسلسل خون میں داخل ہوتا رہا، جس سے جسمانی مائعات پتلے ہو گئے اور نمکیاتی توازن بگڑ گیا۔ آخرکار، شدید الیکٹرولائٹ عدم توازن کے باعث مچھلی کی موت واقع ہو گئی۔




















