Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اوپر کی جانب بہنے والا دریا؟ صدیوں پرانا راز کھل گیا

یہ دریا تقریباً 80 لاکھ برس سے اپنے موجودہ راستے پر بہہ رہا ہے جب کہ یونٹا پہاڑی سلسلہ تقریباً پانچ کروڑ برس قدیم ہے۔

امریکا کی ریاست یوٹاہ کے شمال مشرقی علاقے میں واقع گرین دریا گزشتہ ایک صدی سے ماہرینِ ارضیات کے لیے معمہ بنا ہوا تھا کیونکہ یہ دریا ایک ایسے پہاڑی سلسلے کو کاٹتا ہوا بہتا ہے جس کی عمر خود دریا سے کہیں زیادہ ہے۔

عام طور پر دریا بلندی سے نشیب کی طرف بہتے ہیں اور پہاڑوں کے قدرتی ڈھلوانی راستوں کی پیروی کرتے ہیں مگر گرین دریا اس اصول کے برعکس دکھائی دیتا تھا۔

یہ دریا تقریباً 80 لاکھ برس سے اپنے موجودہ راستے پر بہہ رہا ہے جب کہ یونٹا پہاڑی سلسلہ تقریباً پانچ کروڑ برس قدیم ہے۔

گرین دریا اس قدیم پہاڑی سلسلے کو چیرتا ہوا کولوراڈو دریا سے جا ملتا ہے اور ایک گہری وادی بناتا ہے جو پہاڑوں کے رخ کے بالکل الٹ سمت میں واقع ہے۔ اس منظر نے طویل عرصے تک یہ تاثر دیا کہ شاید دریا کبھی اوپر کی جانب بہا ہو۔

اب اس راز سے پردہ اسکاٹ لینڈ کی گلاسگو یونیورسٹی کے ماہر ارضیات ایڈم اسمتھ اور ان کی تحقیقاتی ٹیم نے اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق حقیقت میں دریا اوپر کی طرف نہیں بہا بلکہ ماضی میں پہاڑی سلسلہ عارضی طور پر نیچے بیٹھ گیا تھا۔

تحقیق کے مطابق زمین کی اوپری تہہ کے نیچے موجود بھاری معدنی مادہ اتنا وزنی ہوگیا کہ وہ نیچے پگھلی ہوئی تہہ میں ٹپک گیا۔

اس عمل کو ارضیاتی زبان میں ’’زمین کی تہہ کا ٹپکاؤ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس ٹپکاؤ کے باعث یونٹا پہاڑی سلسلہ چند لاکھ برس کے لیے نیچے دھنس گیا جس سے گرین دریا کو پہاڑوں کو کاٹ کر بہنے کا موقع ملا۔

بعد ازاں جب یہ بھاری مادہ مکمل طور پر الگ ہوگیا تو پہاڑ دوبارہ ابھر آئے اور دریا کے اردگرد تقریباً چار سو میٹر تک بلندی پیدا ہوگئی جس سے آج کی گہری وادی وجود میں آئی۔

زلزلوں کی لہروں کے ذریعے زمین کے اندرونی حصوں کی تصویربرداری سے معلوم ہوا کہ پہاڑوں کے نیچے غیر معمولی طور پر ایک گول اور ٹھنڈا مادہ موجود ہے جو اس ٹپکاؤ کا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ اس علاقے میں زمین کی بیرونی تہہ بھی معمول سے زیادہ پتلی پائی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس عمل نے نہ صرف گرین اور کولوراڈو دریاؤں کے ملاپ کو ممکن بنایا بلکہ شمالی امریکا کی قدرتی آبی تقسیم کو بھی بدل دیا جس کے اثرات جنگلی حیات اور قدرتی ماحول پر آج تک موجود ہیں۔