سائنس دانوں نے رومی دور کا پراسرار کھیل بے نقاب کردیا ہے جسے دیکھ کر ماہرین بھی حیران رہ گئے ہیں۔
نیدرلینڈز میں دریافت ہونے والا رومی دور کا ایک ہموار سفید پتھر طویل عرصے سے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے لیے معمہ بنا ہوا تھا۔
اب سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اس راز سے پردہ اٹھالیا گیا ہے اور امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ پتھر دراصل ایک قدیم کھیل کا تختہ تھا۔
یہ گول شکل کا چونے کا پتھر ہے جس پر سیدھی اور ترچھی لکیریں تراشی گئی ہیں۔ ماہرین نے جب اس پتھر کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ کچھ لکیریں دیگر کے مقابلے میں زیادہ گہری ہیں۔
اس سے اندازہ لگایا گیا کہ کھیل کے دوران مہرے ان مخصوص راستوں پر زیادہ چلائے جاتے تھے جس کے باعث وہاں رگڑ کے نشانات نمایاں ہوگئے۔
قدیم کھیلوں کے ماہرین کے مطابق پتھر پر موجود خراشیں واضح کرتی ہیں کہ مہروں کو لکیروں کے ساتھ ساتھ سرکایا جاتا تھا۔ اسی بنیاد پر ایک جامع تجزیہ کیا گیا تاکہ اس کھیل کے ممکنہ اصولوں کا تعین کیا جاسکے۔
اس مقصد کے لیے ماہرین نے ایک ایسے خودکار نظام کی مدد لی جو قدیم کھیلوں کے قواعد اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نظام کو اسی خطے کے تقریباً سو قدیم کھیلوں کے اصول سکھائے گئے۔
بعد ازاں اس نے مختلف ممکنہ طریقۂ کار تجویز کیے اور خود ہی ان پر عمل کرکے نتائج کا جائزہ لیا۔ یوں درجنوں امکانات میں سے چند ایسے طریقے سامنے آئے جو کھیلنے کے لیے زیادہ موزوں اور دلچسپ قرار دیے گئے۔
تحقیق کاروں نے پھر ان ممکنہ اصولوں کو پتھر پر موجود رگڑ کے نشانات سے ملاکر دیکھا جس سے اندازہ ہوا کہ کون سا طریقۂ کار زیادہ قرینِ قیاس ہے۔
تاہم ماہرین نے یہ بھی واضح کیا کہ حتمی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ رومی باشندے یہی طریقہ اختیار کرتے تھے کیونکہ کسی بھی نقش و نگار سے مختلف انداز اخذ کیے جاسکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ بظاہر سادہ مگر نہایت سنسنی خیز حکمتِ عملی پر مبنی کھیل تھا جس کا مقصد کم سے کم چالوں میں حریف کے مہروں کو گھیر کر قابو کرنا تھا۔ اس دریافت نے قدیم رومی تہذیب کے تفریحی پہلو پر نئی روشنی ڈال دی ہے۔




















