Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

تقریباً 29 کروڑ سال پرانے رینگنے والے جانور کے نشان کی حیران کن دریافت

یہ نایاب دریافت جرمنی کے علاقے تھورنگین کے جنگلاتی طاس میں موجود سنہری مٹیلی تہہ سے ہوئی۔

سائنس دانوں نے جرمنی میں تقریباً 29 کروڑ سال پرانے ایک رینگنے والے جانور کے آرام کرنے کے نشان کو دریافت کیا ہے جسے اب تک کا سب سے قدیم محفوظ شدہ جلدی نقش قرار دیا جارہا ہے۔

اس نشان میں نہ صرف جسم کی کھال واضح ہے بلکہ دم کے قریب ایک ایسا سوراخ بھی دکھائی دیتا ہے جسے ماہرین مشترکہ اخراجی راستہ قرار دے رہے ہیں۔

یہ نایاب دریافت جرمنی کے علاقے تھورنگین کے جنگلاتی طاس میں موجود سنہری مٹیلی تہہ سے ہوئی۔

تحقیق کے مطابق یہ نشان تقریباً 9 سینٹی میٹر لمبے رینگنے والے ایک جانور نے اس وقت چھوڑا جب وہ کیچڑ میں کچھ دیر بیٹھا اور پھر آگے بڑھ گیا۔ کروڑوں سال بعد یہی مختصر سا لمحہ سائنسی دنیا کے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کرگیا۔

ماہرین ارضیات اور حیاتیات کا کہنا ہے کہ نرم بافتوں کے ایسے نقوش کا محفوظ رہ جانا انتہائی کم ہوتا ہے اور وہ بھی خاص طور پر اتنے قدیم زمانے کے۔

یہ جانور ابتدائی دورِ پرمیئن کے آغاز میں تقریباً 29 کروڑ 50 لاکھ سال پہلے زندہ تھا جب کہ اس وقت میں رینگنے والے جانور تیزی سے تنوع اختیار کررہے تھے۔

تحقیق کرنے والی ٹیم نے اس نشان کو ایک نئی نوع کا نام دیا ہے۔ قریبی قدموں کے نشانات اور جسامت کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ جانور قدیم رینگنے والے گروہ سے تعلق رکھتا تھا۔

کیچڑ میں محفوظ ہونے والا یہ نقش پیٹ کے نیچے موجود سخت جلد کو بھی ظاہر کرتا ہے جو آج کے رینگنے والے جانوروں کی طرح حفاظتی تہہ کا کام کرتی تھی۔

تاہم سب سے زیادہ حیران کن حصہ دم کے نچلے سرے پر دکھائی دینے والا سوراخ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی وہ مشترکہ راستہ ہے جو فضلہ خارج کرنے، پیشاب، افزائش نسل اور انڈے دینے جیسے کاموں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

یہ دریافت اس سے پہلے ملنے والے تقریباً 12 کروڑ سال پرانے ڈائنوسار کے جسمانی نشان سے بھی کہیں زیادہ قدیم ہے اور اس طرح یہ خشکی پر رہنے والے جانوروں میں اس ساخت کا سب سے قدیم ثبوت بن گئی ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایسے نشانات محض قدموں کے نشان نہیں ہوتے بلکہ وہ جسمانی تفصیلات محفوظ رکھتے ہیں جو عام طور پر وقت کے ساتھ مٹ جاتی ہیں۔