چین کے سائنس دانوں نے جدید جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ٹماٹر کی ایک نئی قسم تیار کی ہے جو ’’پاپ کارن جیسی‘‘ خوشبو رکھتا ہے۔
ٹماٹر دنیا بھر میں سب سے زیادہ کاشت اور استعمال ہونے والی سبزیوں میں شامل ہے۔ اس کی خوشبو نہ صرف کھانے کی کشش بڑھاتی ہے بلکہ صارفین کی پسند اور مارکیٹ قیمت پر بھی اثر ڈالتی ہے۔
تاہم پھل کے بیل سے کٹتے ہی اس میں میٹابولک تبدیلیاں شروع ہوجاتی ہیں جو خوشبو کو کم کردیتی ہیں جب کہ اس ٹماٹر کی تیاری کا مقصد نقل و حمل اور ذخیرہ کرنے کے دوران پھلوں میں ذائقے اور خوشبو کے ختم ہونے کے مسئلے کو حل کرنا ہے۔
سائنس دانوں نے بی اے ڈی ایچ 2 نامی جین میں تبدیلی کرکے دیکھا کہ اس سے اے پی 2 نامی نامیاتی مرکب جمع ہوتا ہے جو خوشگوار ’’پاپ کارن جیسی‘‘ خوشبو پیدا کرتا ہے۔
مزید تحقیقات میں دو اہم جینز ایس آئی بی اے ڈی ایچ 1 اور ایس آئی بی اے ڈی ایچ 2 کو بھی تبدیل کیا گیا جس سے خوشبو میں نمایاں اضافہ ہوا۔
میوٹنٹ ٹماٹر کی اقسام میں پھول آنے کا وقت، پودے کی اونچائی، پھل کا وزن، شوگر اور وٹامن سی کے معیار میں کوئی منفی فرق نہیں آیا، یعنی خوشبو میں اضافہ پیداوار یا غذائی معیار کو متاثر کیے بغیر ممکن ہوا۔
محققین نے کہا کہ اس خوشبودار ٹماٹر کی نئی اقسام مارکیٹ میں ذائقہ اور صارفین کی پسند کے لحاظ سے اہم کردار ادا کرسکتی ہیں، بالخصوص اشرافیہ کے تجارتی کھیتوں میں۔
محققین کہتے ہیں کہ اس کا مقصد ٹماٹروں کے ذائقے اور خوشبو کی پیچیدگی کو بڑھانا اور صارفین کی ترجیحات کے مطابق مارکیٹ ویلیو میں اضافہ کرنا ہے۔
یہ تحقیق جرنل آف انٹیگریٹیو ایگریکلچر میں شائع ہوئی اور سائنس دان اس ٹماٹر کو تجارتی سطح پر متعارف کرانے کے لیے کام کررہے ہیں۔




















