نیو اورلینز میں ایک گھر کے باغ سے ملنے والا اور عام سا دکھائی دینے والا سنگِ مرمر کا ٹکڑا دراصل تقریباً 1900 سال پرانا رومی دور کا تاریخی کتبہ نکلا جس نے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو حیران کردیا۔
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ماہرِ بشریات ڈینیئلا سانٹورو اور ان کے شوہر ایرن لوپیز نے اپنے گھر کے باغ کی صفائی کے دوران جھاڑیوں میں دبا ہوا ایک پتھر دیکھا
اس پتھر پر لاطینی زبان میں تحریر کندہ تھی جسے دیکھ کر انہیں شبہ ہوا کہ یہ کوئی عام آرائشی چیز نہیں بلکہ ممکنہ طور پر کسی قبر سے متعلق نشانی ہوسکتی ہے۔
مزید تحقیق کے لیے ماہرین کو بلایا گیا جنہوں نے ابتدائی جائزے کے بعد تصدیق کی کہ یہ کتبہ رومی دور کی تدفینی روایت کا حصہ ہے۔ اس پر درج عبارت کا مطلب ’’مرحوم کی روح کے نام‘‘ ہے جو قدیم روم میں قبروں پر عام طور پر لکھی جاتی تھی۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ کتبہ ایک رومی فوجی سیکٹس کونجینیئس ویروس کی یاد میں بنایا گیا تھا جو تھریس سے تعلق رکھتا تھا۔
کتبے کے مطابق وہ 42 سال کی عمر میں انتقال کرگیا تھا اور اس نے 22 سال تک فوجی خدمات انجام دی تھیں۔ یہ کتبہ اس کی وفات کے بعد اس کے ورثا نے تیار کروایا تھا۔
مزید حیران کن بات یہ سامنے آئی کہ یہ تاریخی نوادرات پہلے اٹلی کے شہر سیویتاویکیا کے نیشنل آرکیولوجیکل میوزیم میں محفوظ تھا۔
دوسری عالمی جنگ کے دوران 1943 اور 1944 میں ہونے والی بمباری سے یہ عجائب گھر شدید متاثر ہوا اور کئی نوادرات لاپتا ہوگئے جن میں یہ کتبہ بھی شامل تھا۔
بعد ازاں تحقیقات سے پتا چلا کہ یہ کتبہ ایک امریکی فوجی چارلس پیڈاک جونیئر کے پاس پہنچ گیا تھا جو جنگ کے دوران اٹلی میں تعینات تھے۔ ان کے اہلِ خانہ نے بعد میں اسے گھر میں یادگار کے طور پر رکھا اور اسے ایک عام آرائشی پتھر سمجھا جاتا رہا۔
اب تقریباً آٹھ دہائیوں بعد امریکی حکام نے اس تاریخی نوادر کو واپس اٹلی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس عمل کی نگرانی ایف بی آئی کی آرٹ کرائم ٹیم کررہی ہے تاکہ یہ نوادر دوبارہ اپنے اصل عجائب گھر میں محفوظ ہوسکے۔
ماہرین کے مطابق یہ دریافت نہ صرف تاریخی اہمیت رکھتی ہے بلکہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ جنگوں کے دوران کھو جانے والے ثقافتی خزانے آج بھی دنیا کے مختلف حصوں میں موجود ہوسکتے ہیں۔




















