آسٹریا کے سائنسدانوں نے دنیا کا سب سے چھوٹا کیو آر کوڈ تیار کرکے گینز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام درج کروالیا۔ یہ کوڈ اتنا چھوٹا ہے کہ اسے دیکھنے کے لیے الیکٹران مائیکرواسکوپ کی ضرورت ہوگی۔
ویانا یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور ڈیٹا اسٹوریج کمپنی سیرابائٹ کے سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر یہ کیو آر کوڈ تیار کیا ہے۔ اس کا رقبہ صرف 1.977 مربع مائیکرو میٹر ہے جو کہ بعض بیکٹیریل سیلز اور فضائی آلودگی کے ذرات سے بھی چھوٹا ہے۔
محققین نے اس کوڈ کو سیرامک کی پتلی فلم پر تیار کیا ہے جو عام طور پر ہائی پرفارمنس کاٹنے والے اوزاروں پر کوٹنگ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ انہوں نے آئن بیم کو فوکس کرکے اس مواد پر صرف 49 نینو میٹر سائز کے پکسلز میں کیو آر کوڈ کاٹا۔
یہ سائز روشنی کی طول موج سے دس گنا چھوٹا ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ کوڈ انسانی آنکھ سے مکمل طور پر پوشیدہ ہے۔
ماہر مواد سائنسدان پال میئرہوفر کا کہنا ہے کہ یہ ڈھانچہ اتنا باریک ہے کہ اسے آپٹیکل مائیکرواسکوپ سے بھی نہیں دیکھا جاسکتا۔
ان کے مطابق مائیکرو میٹر پیمانے پر ڈھانچے بنانا آج کل کوئی غیر معمولی بات نہیں لیکن اتنا چھوٹا اور قابل مطالعہ کوڈ بنانا حیران کن ہے۔
گینز ورلڈ ریکارڈ کے لیے ریڈ آؤٹ کا عمل گواہوں کی موجودگی میں کیا گیا اور یونیورسٹی آف ویانا نے بطور آزاد تصدیق کنندہ اس کی توثیق کی۔
محققین کا کہنا ہے کہ وہ اس ٹیکنالوجی کو ڈیٹا اسٹوریج کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس طریقے سے صرف ایک اے فور کاغذ پر 2 ٹیرا بائٹ سے زیادہ ڈیٹا ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔
الیکزینڈر کرن باور کا کہنا ہے کہ سیرامک اسٹوریج میڈیا کے ساتھ وہ قدیم تہذیبوں کی طرح معلومات کو انتہائی پائیدار مواد میں محفوظ کررہے ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود آنے والی نسلوں تک پہنچ سکے۔
یہ ایجاد ڈیٹا اسٹوریج کی بڑھتی ہوئی ضروریات کا ایک چھوٹا مگر ممکنہ حل پیش کرتی ہے۔




















