ایک نئی جینیاتی تحقیق نے ہزاروں سال پرانا راز کھول دیا ہے کہ انسانوں اور نیندرتھلز کے درمیان تعلقات کیسے استوار ہوتے تھے جب کہ سائنسدانوں کے مطابق ان تعلقات میں انسانی خواتین اور نیندرتھل مرد زیادہ شامل تھے۔
سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق جب بھی دونوں انواع کے درمیان ملاپ ہوا تو اس میں نیندرتھل مرد اور انسانی خواتین ہی شامل رہی ہیں۔
سائنسدان طویل عرصے سے جانتے تھے کہ جدید انسانوں میں نیندرتھل ڈی این اے موجود ہے لیکن یہ ڈی این اے انسانی جینوم میں یکساں طور پر تقسیم نہیں ہے۔ خاص طور پر انسانی ایکس کروموسوم میں نیندرتھل ڈی این اے کی غیرمعمولی کمی پائی جاتی ہے۔
محققین کا کہنا تھا کہ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ان جگہوں پر موجود جینز مفید نہیں تھے بلکہ نقصان دہ تھے۔ تاہم پنسلوانیا یونیورسٹی کے سائنسدان الیگزینڈر پلاٹ اور ان کی ٹیم نے اس معمے کو حل کرنے کے لیے نیندرتھل جینوم کا جائزہ لیا۔
جب محققین نے ڈھائی لاکھ سال پہلے ہونے والے ملاپ کے دوران نیندرتھل جینوم میں شامل انسانی ڈی این اے کا جائزہ لیا تو انہوں نے دیکھا کہ نیندرتھل کے ایکس کروموسوم پر انسانی ڈی این اے کی زیادہ مقدار موجود تھی۔
الیگزینڈر پلاٹ کے مطابق اس کی سب سے آسان وضاحت یہ ہے کہ زیادہ تر انسانی خواتین نے نیندرتھل مردوں سے تعلق قائم کیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جنسی کروموسوم کی منتقلی کا طریقہ کار ایسا ہے کہ آبادی میں موجود ہر تین ایکس کروموسوم میں سے دو ماں کی طرف سے منتقل ہوتے ہیں۔
مشی گن یونیورسٹی کی ماہر ژنژانگ کا کہنا تھا کہ اگرچہ دوسری وضاحتیں بھی ممکن ہیں لیکن سب سے آسان اور دلچسپ وضاحت یہی ہے کہ انسانی خواتین اور نیندرتھل مردوں کے درمیان تعلقات زیادہ تھے۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج صرف ڈارون کے نظریہ بقائے اصلح کی عکاسی نہیں کرتے بلکہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ انسانی ثقافت، معاشرت اور طرز عمل نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا۔




















