Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

چھوٹی مچھلی نے خود کو پہچاننے کا امتحان پاس کرلیا، سائنسدان حیران

یہ مچھلی نہ صرف آئینے میں اپنی شناخت کرسکتی ہے بلکہ آئینے کو سمجھنے کے لیے خوراک کا استعمال بھی کرتی ہے۔

ٹوکیو میں ایک چھوٹی سی مچھلی نے خود کو آئینے میں پہچاننے کا امتحان پاس کرکے سائنسدانوں کو حیران کردیا ہے۔

کلینر راس نامی یہ مچھلی نہ صرف آئینے میں اپنی شناخت کرسکتی ہے بلکہ اس نے آئینے کو سمجھنے کے لیے خوراک کا استعمال بھی کیا۔

آئینے کا امتحان جانوروں کی خود شناسی جانچنے کا معیاری طریقہ ہے۔ چمپینزی، ہاتھی اور ڈولفن جیسے جانور یہ امتحان پاس کرچکے ہیں جسے ان کی ذہانت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

اس امتحان میں جانور کے جسم پر کوئی نشان لگایا جاتا ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ آیا وہ آئینے میں خود کو دیکھ کر اس نشان کو پہچانتا ہے یا نہیں۔

نئی تحقیق میں کیا ہوا؟

جاپان کی اوساکا میٹروپولیٹن یونیورسٹی اور سوئٹزرلینڈ کی یونیورسٹی آف نوشاٹل کے محققین نے کلینر راس مچھلی پر نیا تجربہ کیا۔

انہوں نے پہلے مچھلی کے جسم پر نشان لگایا اور پھر آئینہ پیش کیا۔ مچھلی نے اوسطاً 82 منٹ میں اس نشان کو صاف کرنے کی کوشش کی جوکہ خود شناسی کی واضح علامت ہے۔

حیران کن رویہ

محققین نے دیکھا کہ جب مچھلیوں کو آئینے کی عادت ہوگئی تو انہوں نے ایک عجیب رویہ دکھایا۔ وہ ٹینک کے نیچے سے جھینگے کا ایک ٹکڑا اٹھا کر آئینے کے پاس لے جاتیں اور وہاں گرا دیتیں۔ جب جھینگے کا ٹکڑا آئینے میں اپنے عکس کے ساتھ گرتا تو مچھلی اسے غور سے دیکھتی۔

محققین کا خیال ہے کہ یہ مچھلی کا آئینے کو سمجھنے کا طریقہ ہے۔ وہ اپنے علاوہ کسی اور چیز کو استعمال کرکے یہ جاننے کی کوشش کررہی تھی کہ آئینہ کیسے کام کرتا ہے۔

ماہر حیاتیات ماسانوری کوہڈا کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق نہ صرف ارتقائی نظریہ اور خود کے تصور کو سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ جانوروں کی فلاح و بہبود، طبی تحقیق اور مصنوعی ذہانت کے مطالعے پر بھی اثر انداز ہوگی۔

نتائج کیا کہتے ہیں؟

محققین کا کہنا ہے کہ خود شناسی کی یہ صلاحیت، جو کبھی صرف انسانوں اور بڑے بندروں میں سمجھی جاتی تھی درحقیقت بہت سے جانوروں میں پائی جاتی ہے۔

ان کے مطابق یہ صلاحیت کم از کم 45 کروڑ سال پہلے بونی مچھلیوں میں پیدا ہوئی اور اب بھی مختلف جانوروں میں موجود ہے۔

واضح رہے کہ کلینر راس مچھلی سمندر میں رہنے والی ایک چھوٹی مچھلی ہے جو بڑی مچھلیوں سے پرجیوی اور مردہ بافت صاف کرکے اپنی خوراک حاصل کرتی ہے۔