Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

37 لاکھ سال پہلے زمین پر رہنے والے انسان کا چہرہ تشکیل دے دیا گیا

لیٹل فٹ کے نام سے مشہور اس نمونے کی کھوپڑی کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈیجیٹل طور پر دوبارہ ترتیب دیا گیا ہے۔

سائنسدانوں نے 37 لاکھ سال پہلے زمین پر رہنے والے انسان آسٹریلوپیتھیکس کا چہرہ تشکیل دے دیا ہے۔ لیٹل فٹ کے نام سے مشہور اس نمونے کی کھوپڑی کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈیجیٹل طور پر دوبارہ ترتیب دیا گیا ہے۔

لیٹل فٹ کے نام سے مشہور یہ نمونہ 1980 میں جنوبی افریقا کے اسٹرکفونٹین غار سے دریافت ہوا تھا۔ ابتدا میں صرف چار چھوٹی ہڈیاں ملی تھیں جس کی وجہ سے اسے لیٹل فٹ کا نام دیا گیا۔ 1990 کی دہائی میں باقی کنکال غار کی دیوار میں دریافت ہوا جسے نکالنے میں مزید 15 سال لگ گئے۔

فرانس کی یونیورسٹی آف پوئٹیئرز کی ماہر امیلی بودے کی قیادت میں محققین نے برطانیہ کی ڈائمنڈ لائٹ سنکروٹران سہولت میں ایکسرے مائکرو سی ٹی اسکین کروائے۔ اس سے 21 مائکرو میٹر ریزولوشن کے ساتھ ڈیجیٹل تھری ڈی تصویر تیار کی گئی۔

اس کے بعد ہڈیوں اور دانتوں کو پتھر سے علیحدہ کرکے کھوپڑی کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ ان حصوں کو جیگس پزل کی طرح جوڑ کر اصل شکل دوبارہ ترتیب دی گئی۔

کیا انکشاف ہوا؟

تحقیق سے پتا چلا کہ اگرچہ لیٹل فٹ جنوبی افریقا سے ملا ہے لیکن اس کی کھوپڑی کی ساخت مشرقی افریقا کے آسٹریلوپیتھیکس نمونوں سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے تاہم اس کی آنکھوں کے ساکٹ کی ساخت دیگر نمونوں سے منفرد ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ شاید ماحولیاتی تبدیلیوں اور خوراک کی قلت کے باعث جنوبی افریقا کے انسانی رشتہ داروں میں آنکھوں کے ساکٹ کی ساخت پر ارتقائی دباؤ زیادہ رہا ہو۔

محققین کا کہنا ہے کہ اس نمونے کا صحیح مقام ابھی واضح نہیں ہوسکا۔ یہ کسی معروف نوع کا رکن بھی ہوسکتا ہے اور بالکل نئی نوع بھی۔ نر اور مادہ کے درمیان فرق بھی اس ابہام کی وجہ بن سکتا ہے۔

محققین تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی تشکیل کردہ شکل ابتدائی ہے اور مستقبل میں اس میں مزید بہتری لائی جاسکتی ہے تاہم یہ تحقیق ہمارے قدیم رشتہ داروں کے چہرے کو سمجھنے میں اہم پیش رفت ہے۔