ماہرین فلکیات نے خلا میں اب تک کی سب سے دور اور سب سے روشن ’’اسپیس لیزر‘‘ کو دریافت کرلیا ہے۔ جنوبی افریقہ کی میر کیٹ ریڈیو دوربین نے یہ حیران کن دریافت کی ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ دراصل ایک ’’گیگا میزر‘‘ ہے جو آٹھ ارب نوری سال کے فاصلے پر دو بڑی کہکشاؤں کے ٹکراؤ سے پیدا ہوا ہے۔ اس ٹکراؤ کے دوران گیس کے بادل اس قدر دب گئے کہ ان میں موجود ہائیڈروکسل مالیکیولز نے تیز ریڈیو لہریں خارج کرنا شروع کردیں۔
لیزر روشنی کو بڑھاتا ہے جب کہ میزر مائیکرو ویوز کو بڑھاتا ہے۔ یہ دونوں ایک ہی اصول پر کام کرتے ہیں۔ جب بہت سے ایٹم یا مالیکیول پرجوش حالت میں ہوں اور ان پر مخصوص توانائی کے فوٹون پڑیں تو وہ مزید فوٹون خارج کرتے ہیں جس سے توانائی بڑھ جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ روشنی زمین تک پہنچنے کے لیے آٹھ ارب سال کا سفر طے کرچکی ہے۔ راستے میں ایک اور کہکشاں نے قدرتی عدسے کا کام کیا اور اس روشنی کو مزید بڑھادیا۔
یونیورسٹی آف پریٹوریا کی ماہر فلکیات تھاٹو مانامیلہ کا کہنا ہے کہ یہ ریڈیو لیزر کائنات کے آدھے راستے سے آرہا ہے اور راستے میں ایک بالکل سیدھ میں موجود کہکشاں نے اسے مزید بڑھا دی۔
یہ گیگا میزر عام میزر سے اربوں گنا زیادہ روشن ہے۔ اس سے پہلے تک کا ریکارڈ پانچ ارب نوری سال دور موجود میزر کے پاس تھا۔ یہ نہ صرف سب سے دور ہے بلکہ اب تک کا سب سے روشن بھی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت میر کیٹ دوربین کی صلاحیتوں کو ظاہر کرتی ہے اور اس سے کہکشاؤں کے ٹکراؤ اور ان سے نکلنے والی گیس کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔




















